حضرت سیدنا صوفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سیدنا شیبان راعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔ سیدنا سفیان ثوری رحمت اللہ تعالی علیہ ساری رات روتے رہے۔ سیدنا شیبان رائی رحمت اللہ تعالی علیہ نے سببِ گریہ دریافت کیا، تو فرمایا: مجھے برے خاتمے کا خوف رلا رہا ہے۔ آہ!! میں نے ایک شیخ سے 40 سال کا علم حاصل کیا اس نے 60 سال تک ”مسجد الحرام“ میں عبادت کیں۔ مگر اس کا ”خاتمہ کفر“پر ہوا۔
سیدنا شعبان رائی رحمت اللہ تعالی علیہ نے کہا: اے صوفیان! وہ اس کے گناہوں کی شامت تھی، یعنی گناہوں کے سبب اس کا ایمان برباد ہو گیا۔ آپ اللہ عزوجل کی نافرمانی ہرگز مت کرنا۔
( کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب: 168)
اللہ اکبر کبیرا ! 60 سال تک مسجد الحرام میں عبادت کرنے کے باوجود گناہوں کی شامت کی وجہ سے ان شیخ کا ایمان سلب کر لیا گیا۔ اور آج ہم اپنے حال ہر غور کریں! پلک جھپکائیں تو گناہ کر بیٹھیں، چلیں تو گناہ، بولیں تو گناہ ہی گناہ! ہمارا پل پل گناہوں میں گزرے۔ اس کے باوجود بھی ہمیں اپنے ایمان کی کوئی فکر نہیں الا ما شاءاللہ تعالیٰ!
رب تبارک و تعالیٰ ہمیں ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بچنے کی، اپنے ایمان کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین و نبی الملاحم ﷺ!
9/ رجب المرجب/1446
10/ جنوری/2025