ستمبر کی ایک تپتی دوپہر عُمیر درس گاہ سے نکل کر کتب خانے پہنچا۔ جیب میں مہینوں کا جوڑا ہوا وظیفہ تھا۔ اس نے چند کتابیں خریدیں تو بزرگ مالک نے ایک پتلی سی کتاب اس کے ہاتھ میں رکھ دی: "یہ ہدیہ ہے بیٹا۔" کتاب کا نام تھا عظمتِ رفتہ کی جستجو۔
رات کمرے میں اس نے "بس چند صفحے" پڑھنے کے ارادے سے کتاب کھولی۔ صفحے پلٹتے گئے اور وہ بہار کی ان بستیوں میں پہنچ گیا جہاں احسن نے آنکھ کھولی تھی، جہاں سے خورشید اٹھے تھے۔ مصنف نے ان مٹی کے ٹیلوں کا ذکر ایسے کیا تھا جیسے کوئی کسی اجڑے گھر کی دہلیز پر بیٹھ کر روئے۔ کہیں لکھا تھا کہ فلاں کا حجرہ اب مویشیوں کا باڑہ ہے، اور کہیں یہ کہ جس دروازے پر کبھی طلبہ قطار باندھے کھڑے رہتے تھے، وہاں اب کوئی نام کی تختی تک نہیں۔
عُمیر کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اسے یاد آیا کہ اس کے دادا گاؤں کے عالم تھے۔ ان کے صندوق میں ہاتھ کی لکھی کاپیاں تھیں، حاشیوں سے بھرے نسخے اور اکابر کے خطوط۔ انتقال کے تیسرے دن گھر والوں نے صندوق "جگہ گھیرنے والا کباڑ" کہہ کر ترازو پر رکھوا دیا۔ کباڑی نے وزن کیا اور چند روپے ہاتھ پر رکھ دیے۔ پندرہ سالہ عُمیر دروازے کے پیچھے کھڑا دیکھتا رہا۔ اس نے ایک لفظ نہ کہا۔ اسی رات اس کی ماں نے دادا کی جائے نماز تہہ کر کے الماری میں رکھی اور بہت دیر تک روتی رہی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ جائے نماز کو رو رہی ہے یا اس صندوق کو۔
آج وہ خاموشی سینے پر پتھر بن کر بیٹھ گئی۔
پھر اس نے اپنی الماری دیکھی۔ اس میں اکابر کے نام تھے مگر ان کی کتابیں نہیں تھیں۔ وہ برسوں سے جلسوں میں "سلطان القلم" کے نعرے لگاتا آیا تھا، مگر سلطان کی ایک سطر بھی کبھی نہیں پڑھی تھی۔
اس کے ذہن میں اپنے گرد و پیش کے چہرے گھوم گئے۔ اس کے محلے کے جوان کھلاڑیوں کے نام، ان کی تنخواہیں اور ان کے ریکارڈ ازبر رکھتے ہیں، مگر اپنے ہی اسلاف کا ایک نام نہیں بتا سکتے۔ گھروں میں مہنگے ٹی وی ہیں اور قرآن کا ترجمہ کسی بچے کے ہاتھ میں نہیں۔ جن مدرسوں کے دروازے پر کبھی سلاطین ادب سے کھڑے ہوتے تھے، وہاں آج چندے کی رسید ہاتھ میں لیے لوگ در در پھرتے ہیں۔ جس امت کو پہلا حکم "اقرأ" ملا تھا، وہ سب سے کم پڑھنے والی امت بن گئی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب تاتاریوں نے بغداد کے کتب خانے دریا میں پھینکے تو دجلہ کا پانی سیاہی سے سیاہ ہو گیا تھا۔ عُمیر کے دل میں ایک سوال کانٹے کی طرح چبھا: "وہ تو دشمن تھے، انہوں نے ہماری کتابیں دریا میں پھینکیں۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے ترازو میں تول کر بیچ دیں۔ ہمیں کس نے مارا؟"
وہ رات بھر جاگتا رہا۔ اذانِ فجر کے وقت اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر کتاب کے آخری صفحے پر گرے۔
اس دن سے اس نے قسم کھا لی۔ ہر جمعرات وہ ساتھی طلبہ کو جمع کرتا اور ایک کتاب پڑھ کر سناتا۔ شروع میں چار لوگ آئے، پھر آٹھ، پھر پورا حلقہ بن گیا۔ چھٹیوں میں وہ گاؤں گیا اور کباڑی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ دادا کا صندوق کب کا بک چکا تھا، مگر دو بوسیدہ کاپیاں کسی کونے میں پڑی تھیں۔ عُمیر نے انہیں ہاتھ میں لیا تو حاشیے پر دادا کی تحریر نظر آئی: "یہ امانت ہے، آگے پہنچانا۔
وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
ہم نے ماضی کو دشمن کی تلوار سے کم اور اپنی بے پروائی سے زیادہ کھویا ہے۔ آج بھی ہماری بیٹیاں اور بیٹے اپنے اکابر کے نام نہیں جانتے، اور ہم گھروں میں وہ صندوق اب بھی کباڑ سمجھ کر رکھتے ہیں۔ اپنے بچوں کو اکابر کی کتاب ہدیہ کیجیے، ان کے مقامات کو زندہ رکھیے، اور اپنے گھر کا کوئی صندوق ترازو پر نہ چڑھنے دیجیے۔ ورنہ کل ہماری نسلیں ہم سے یہی پوچھیں گی کہ ہم نے وراثت کے ساتھ کیا کیا۔