مضامین

ہم نے ترقی تو کی، انسانیت کہاں کھو دی؟

اشرفیہ فاطمہ بنت مولانا جمشید عالم
154
1
آج کا دور ترقی، سہولت اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ انسان نے فاصلے کم کر دیے اور دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری انسانیت بھی اسی رفتار سے آگے بڑھی ہے؟ آج سہولتیں بہت ہیں، مگر سکون کم؛ رابطے بہت ہیں، مگر تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
نبوی معاشرہ اور اخلاق
رسولِ اکرم ﷺ نے ایسا معاشرہ قائم فرمایا جس کی بنیاد عدل، رحم، اخوت، سچائی اور حسنِ سلوک پر تھی۔ آپ ﷺ غریبوں، یتیموں اور کمزوروں کا خیال رکھتے، بچوں سے شفقت فرماتے اور لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ
(الحجرات: 10) 
ترجمہ کنزالایمان: ’’مسلمان مسلمان بھائی ہیں۔‘‘
آج کا معاشرہ
آج ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن بعض اوقات اپنے قریب موجود انسان کے دکھ سے بے خبر رہتے ہیں۔ غیبت، بدگمانی، مذاق اڑانا اور بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا عام ہوتا جا رہا ہے۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا
(الحجرات:12) 
ترجمہ کنزالایمان: ’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ
ترجمہ: ’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘
ہماری ذمہ داری
ٹیکنالوجی اور ترقی بری نہیں، بلکہ ان کا صحیح استعمال ضروری ہے۔ ہمیں اپنی ترقی کے ساتھ اخلاق بھی بہتر کرنے چاہئیں۔ سچ بولنا، دوسروں کی عزت کرنا، والدین اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنا نبوی تعلیمات کا حصہ ہے ۔ 
حقیقی ترقی صرف جدید سہولتوں اور بلند عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ اچھے اخلاق اور انسانیت بھی ترقی کا حصہ ہیں۔ نبوی معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بہترین معاشرہ اچھے انسانوں سے بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں ترقی کے ساتھ اپنی انسانیت، رحم، سچائی اور حسنِ اخلاق کو بھی زندہ رکھنا چاہیے۔