جیسے پانچ ستمبر آتا ہے تو طلبہ کرام کے درمیان happy teachers day کی مبارکبادیاں سنہرے انداز میں پیش کرنے لگتے ہیں، افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب اس میں دینی ومذہبی طلبہ بھی اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں، حالانکہ ہم اہلسنت کو 5 ستمبر کے بجائے ٢/ذی القعدہ کو یوم اساتذہ منانا چاہیے، اس لیے کہ ٹیچرس ڈے کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس کا تعلق ایک کافر طبیب سروپلّی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش سے ہے، اس کی پیدائش اسی دن ہوئی تھی اور یہ ایک استاذ تھا، اس کے مریدین نے جب اس کا یوم پیدائش منانا چاہا تو اس نے آرزو کی کہ میرا یوم پیدائش ایک ٹیچرس ڈے کی حیثیت سے منایا جائے پھر تبھی سے 5 ستمبر Teachers day رائج ہوا، مختلف ویب سائٹس پر اس کا ثبوت ملے گا، NORTH MCD ویبسائٹ سے اقتباس بطور ثبوت پیش نظر ہے: Teachers’ Day is celebrated every year on 5th September in India. All the citizens of India celebrate Teachers’ Day on the occasion of the birth anniversary of its former President Dr. Radhakrishnan Sarvepalli on 5th. By dedicating this special day to them, students thank their teachers in many ways .
لہذا آپ پر واضح ہوگیا ہوگا کہ اس دن منانے سے بچنے کی وجہ کیا ہے؟ اب اس کا متبادل تو ہونا چاہیے کہ انسان کی فطرت ہے جس چیز سے روکا جائے تو وہ اس کی طرف اور مائل ہوجاتا ہے، تو ہمیں اس شخصیت کے یوم پیدائش کو یوم اساتذہ کے طور پر منانا چاہیے جس نے جویان حق کی رہبری کی، نیابت مصطفی کا حق ادا کرتے ہوئے راہ سے بھٹکے ہوؤں کی منزل حق سے آگہی کی، ان پڑھ اور گمراہوں کے ویران دلوں کو علم سے معمور کردیا، معرفت کا خزینہ بنا دیا، جس نے ہمیں اپنے ہاتھوں سے جام حب رضا سے سرشار کیا، علم کی شمع سے سینوں کو روشن کردیا، ، جہالت کی تاریکی سے نکال کر علم کی روشنی کا پرچم لہرایا، جس کی تصانیف پر ہمارا سر تسلیم خم ہے، اور جس کسی نے اس شخصیت کی رفعتوں سے نظریں چرا کر مطالعہ کیا وہ بے بسی کے دلدل میں جا گرا، اپنی عقل پر پردہ ڈال کر ان کے بغض میں قلم کو جنبش دینے والا ذلت رسوائی کا لقمہ اجل بن گیا، ان کی بے مثال تصنیف بہار شریعت کا مطالعہ کرنے والا سبزہ نہر ادب کی مثل اس کے چھینٹے پانے کو بے قرار رہا، اور آفتاب فکر وفن کاسہ گدائی لیے کھڑا رہا، یعنی نازش فکر وفن، زینت قرطاس وقلم، استاذ العلماء والفقهاء، افتخارِ اہل سنت، خلیفہ اعلی حضرت، فقیہ اعظم ہند، صدر الشریعہ، بدر الطريقہ حضرت علامہ ومولانا سیدی محمد امجد علی اعظمیعلیہ الرحمہ والرضوان.
علم میں کامل زہد میں یکتا
ماہرِ طب اور صدرِ شریعہ
روح وبدن دونوں کا مسیحا
میرا امجد ، مجد کا پکا
اِس سےبہت کَچیاتے یہ ہیں
یاد رہے کہ مسلمانوں میں علماء فقہاء محدثین اور معلمین کی کبھی کمی نہیں رہی، ہمارے آقا علیہ السلام معلم کائنات ہیں، ان کی تربیت سے ہر قوم سے زیادہ معلمین مسلمانوں میں پیدا ہوئے، ساری دنیا نے تہذیب تمدن اور عدل وانصاف اور علوم وفنون ہمارے اسلاف سے سیکھا ہے، پھر بھی لوگوں کو مسلمانوں کا کوئی معلم نہ ملنا کہ اس کی تاریخ ولادت یا وفات کو اس کے لیے منتخب کرتے، اس کے بجائے بت پرستوں میں معلم تلاش کرکے اس کے دن کو اہمیت دینا حد درجہ بے غیرتی ہے اور اس میں ہمارے اسلاف کی ناقدری ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ اس سے باز آئیں، اور اپنی تاریخ یاد رکھیں.
اپنا ہی ہے قصور، ہمیں تم سے دور ہیں
تم تو ہمارے ساتھ رہے، ہم جدھر گئے
طارق محمود رضوی
١٤٤٥/٠٢/١٨ء
٢٠٢٣/٠٩/٠٥ء