از قلم : رقیہ مرزاـــــــــ_ـ__________________
بڑی دھوم دھام سے اس کی شادی ہوئی۔وہ اپنے شوہر سے دس سال چھوٹی تھی۔ کاشف فوج میں حوالدار تھا۔ مزاج کا تیز اور اپنی مرضی کرنے والا شادی کے بعد وہ ناصرہ کو اپنے ساتھ کوئٹہ لے گیا تھا۔
دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ناصرہ بہت دھیمے سبھاؤ کی تھی۔ اور سجنا سنورنا اسے بہت پسند تھا۔ کاشف سخت شکی مزاج اور ذوق جمالیات سے محروم تھا۔
محبت کو ایک کام سمجھتا تھا۔لیکن اپنے ساتھ کام کرنے والی ہر نرس کے ساتھ اس کے مراسم بہت والہانہ تھے۔وہ میل نرس تھا۔ ناصرہ کو یہ سب تب معلوم ہوا جب اسے اللہ نے شادی کے پہلے سال ہی بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا۔
بیٹے کی خوشی اس نے اپنے گھر آ کر منائی ساری برادری کو رسم عقیقہ کی دعوت دے کر کاشف کا ایک بڑا بھائی اور ایک بہن تھی۔
بھائی اس کی اس خوشی پر بظاہر تو خوش تھا لیکن اس کے دل پر سانپ لوٹ رہے تھے کیونکہ اس کی شادی کو سات سال بیت گئے تھے اور ابھی اولاد سے محروم تھا۔
کاشف کی ماں بھی ایک روایتی ساس تھی۔اور بڑے بیٹے کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملانا فرض سمجھتی تھی۔دونوں نے کاشف کو مجبور کیا کہ اب وہ بیوی کو ساتھ نہ لے کر جائے۔اور وہ اس پر رضامند ہو گیا ۔
ناصرہ کسی صورت گاؤں میں رہنا نہیں چاہتی تھی۔
اس نے کاشف کی منتیں کی۔
لیکن اس نے بہلا پھسلاکر گاؤں میں ہی رہنے دیا۔اور خود واپس چلا گیا۔
گاؤں کی زندگی ناصرہ کے لیے عذاب تھی۔اسے گھر کے سارے کام خود کرنے پڑتے تھے۔اور گھر کی چار دیواری کےسامنے کنویں سے ڈول سے پانی لینے بھی جانا پڑتا تھا۔
اس نے کاشف کو رو رو بتایا کہ اسے یہ کام نہیں کرنا ۔لیکن اس پر اس کے جیٹھ نے باقاعدہ جھگڑا کیا اس کی بیوی کئ سالوں سے کر رہی ہے تمہیں کیا موت ہے۔۔۔۔
اپنے بچے کو سنبھالتے ساس نند کی نوک جھونک سہتے اسے چھ ماہ بیت گئے۔
اس روز جون کی شدید دھوپ میں کین اٹھا ئے جب وہ پانی بھر نے گئ تو اسے لگا کوئی اس کے پیچھےآ رہا ہے ۔جب وہ دیکھنے کو مڑ ی تو ایک اونچا لمبا نوجوان اس سے مخاطب ہوا:-
''اتنی تیز دھوپ میں آ پ کنویں سے کیسے ڈ ول کھینچیں گی۔''
یہ کہتے ہی اس نوجوان نے ناصر ہ کے ہاتھ سے کین پکڑا اور جھٹ سے بھر کر اس کے سامنے رکھ دیا۔
وہ اتنی ڈر رہی تھی کہ کچھ کہہ نہ سکی۔
گھر آ کر بھی وہ بہت پریشان رہی۔نوجوان کی اس حرکت نے اسے کیا کیا سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔
اس کا سارا دھیان بس اس بات میں تھا کہ شام کو اس کے لیے قیامت کھڑی ہو گئی۔
اس نے سالن میں بے دھیانی میں نمک زیادہ ڈ ال دیا بس پھر کیا تھا ساس نے خوب سنائیں۔وہ بہت دیر اپنے بچے کو سینے سے لگائے روتی رہی۔
اگلے روز کاشف نے آ نا تھا۔ وہ خوش تھی کہ اس کو مجبور کرے گی کہ وہ ساتھ لے جانے۔
اس روز پانی بھر نے نکلی تو وہ نوجوان پھر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور بولا:-
''تم اتنی خوبصورت ہو ان بے غیرت لوگوں کی کیوں سہتی ہو ''
وہ تو جیسے زمین میں گر گئی۔
اور تڑپ کر بولی تم کون ہو اور کیوں میری زندگی تباہ کر نا چاہئے ہو !
تمہیں اللہ کا واسطہ میرا رستہ چھوڑ دو۔۔
اور تیز ی سے پانی بھر کر گھر آ گئی۔لیکن اس کی حالت ایسی تھی کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔
شام کو کاشف گھر پہنچا تو وہ اس سے لپٹ کر زاروقطار
رو دی۔اور بہت لجاجت سے بولی اب مجھے تمہارے ساتھ ہی جانا ہے ۔
رات گزری اگلے روز کاشف کا موڈ سخت خراب تھا۔
اس کے بھائی نے نہ جانے اسے کیا بتایا کہ وہ سیدھے منہ ناصرہ سے بات نہیں کر رہا تھا ۔وہ بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ اچانک کاشف نے اس سے بچہ چھین کر اسے ہاتھ سے پکڑ کر گھسیٹا اور گالیاں دیتے ہوئے گیٹ سے باہر نکال دیا وہ بار بار کہہ رہا تھا۔
'' میں تمہیں یار بنانے کے لے چھوڑ گیا تھا۔''
وہ ہکا بکا اس کا منہ دیکھ رہی تھی ۔
یہ سارا زہر اس کے جیٹھ نے کاشف کے دل میں بھر ا تھا ۔
وہ بےبسی میں رو رو کر کہہ رہی تھی میں اس وقت کہاں جاؤں گی؟
شام ڈھل چکی تھی اس کی بےبسی اسے ڈرا رہی تھی وہ گرتے پڑتے سڑک تک جانے کی کوشش کر رہی تھی اس کے پاؤں شل ہو رہے تھے وہ چلتے چلتے گر گئی۔رات بہت گہری اور سیاہ تھی۔وہ نیم مردہ حالت میں تھی کیونکہ کاشف نے بچہ چھیننے ہوئے اس تھپڑ مار ے اور زور سے فرش پر گرایا تھا ۔
دکھ،تکلیف سے نڈھال وہ وہیں پڑ ی رہی ۔اس کی آ نکھ کھلی تو ایک پتھر کے ٹکڑے پر سر رکھے کراہ رہی تھی ہمت کر کے اٹھی تو اس کے بدن کے ساتھ کانٹے ااور گھاس لتھڑی ہوئی تھی۔
تیز دھوپ میں اس کا پورا بدن جل رہا تھا۔
بہ ہزار تکلیف وہ اپنی بہن کے گھر پہنچی تو وہ اس کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھی ۔
کاشف نے اس کی بہن کو فون کر کے بتایا تھا کہ وہ اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ جب ناصر ہ نے ساری بات بتائی تو بہت دیر وہ دونوں گلے لگ کر روتی رہیں۔
لیکن یہ سب سن کر اور جس طرح اس نے بچے کو چھینا اسے گھسیٹا وہ رات جو اس نے جنگل میں ایک پتھر کے ٹکڑے پر گزاری۔وہ یہ سب سہہ نہ پائی اگلے روز وہ بستر سے اٹھی ہی نہیں جون تپتی دھوپ میں ظہر کے بعد اس کا جنازہ اٹھا ۔