إِزالَـةُ الْـعارِ بِحَـجْـرِ الْـكَـرَائِـم عَـنْ كِـلابِ الـنَّارِ
فتاوی رضویہ شریف مترجم گیارہویں جلد میں موجود یہ رسالہ غیر مقلد وہابی سے نکاح ہونے یا نہ ہونے کے بیان میں آسان فہم رسالہ ہے. سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس رسالے میں بدمذہبوں سے نکاح کرنے کے مسئلہ میں وہ تحقیق انیق فرمائی ہے کہ کہ مخالفین کو مجال دم زدن نہیں اور معترضین کو کلک خامہ رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں. دس آیتوں، تقریباً چھیاسٹھ احادیث اور چالیس کتب فقہ کے حوالہ جات سے مزین اس رسالے کا مطالعہ ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے.
سیدی اعلی حضرت قدس سرہ اصل مسئلہ پر تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ثم أقول وبالله التوفيق اگر نظر تحقیق کو رخصت جولاں دیجیے تو بدمذہب سے سنیہ کی تزویج (شادی کرنا) ممنوع (ناجائز) ہونے پر شرع مطہر سے دلائل کثیرہ قائم ہیں. اس کے بعد آپ نے اپنی تحقیق سے آیات و احادیث اور آثار صحابہ واقوال فقہا سے سات دلائل بیان فرمائے، ساتھ ہی ان کی اس انداز میں وضاحت فرمائی ہے کہ ایمانی طبیعت جھوم اٹھتی ہے اور دل کیف وسرور میں شرابور ہوکر کوچہ جاناں کا طواف کرنے لگتا ہے. کلک رضا کی حلاوت وجلاوت سے محظوظ ہونے کی خاطر دلائل کا خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے؛
دلیل اول:
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ یعنی اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ. اس آیت کو پیش کرنے کے بعد سیدی اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں: بدمذہب سے زیادہ ظالم کون ہے! اور نکاح کی صحبت دائمہ سے بڑھ کر کونسی صحبت! جب ہر وقت کا ساتھ ہے.
دلیل دوم:
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً
یعنی اللہ کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی. ساتھ میں یہ حدیث پاک پیش کی کہ: عورت کے دل میں شوہر کے لیے جو محبت ہوتی ہے وہ کس کے لیے نہیں ہوتی، پھر فرماتے ہیں: آیت گواہ ہے کہ زن وشوئی (میاں بیوی) وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس و محبت والفت ورافت پیدا کرتا ہے، اور حدیث شاہد ہے کہ عورت کے دل میں جو بات شوہر کی ہوتی ہے کسی کی نہیں ہوتی اور بد مذہب کی محبت سم قاتل (جان لیوا زہر) ہے. اس کے بعد المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ والی حدیث نو روایتوں سے بیان کی.
دلیل سوم:
وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ
یعنی اپنے ہاتھوں خودکو ہلاکت میں نہ ڈالو، اس کے بعد آپ فرماتے ہیں: بدمذہبی ہلاک حقیقی ہے.
وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یعنی اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی، پھر فرماتے ہیں: اور صحبت خصوصا بد کا اثر پڑ جانا احادیث و تجارب صحیحہ سے ثابت، اس دعوے کو آپ نے تقریباً اٹھارہ احادیث کریمہ سے ثابت فرمایا.
دلیل چہارم:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ یعنی مرد عورتوں پر حاکم ومسلط ہیں، حدیث پاک میں ہے: عورت پر سب سے بڑھ کر حق اس کے شوہر کا ہے، اس کے بعد دو حدیثیں دس کتابوں سے بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: الغرض شوہر عورت کے لیے سخت واجب التعظیم ہے اور بد مذہب کی تعظیم حرام ہے اور بدمذہب کو کو سنیہ کا شوہر بنانا گناہ وناجائز ہے.
دلیل پنجم:
وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ یعنی ان دونوں نے زلیخا کے سید وسردار یعنی شوہر کو دروازے کے پاس پایا، سات کتابوں سے حدیثیں بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: جب صرف زبان سے اے میرے سردار! کہہ دینا باعث غضب رب جل جلالہ ہے تو حقیقتاً سردار ومالک بنا لینا کس قدر سخت موجب غضب ہوگا والعياذ بالله رب العالمين.
دلیل ششم:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ یعنی اے لوگو! ایک مثال بیان کی گئی ہے تو اسے کان لگا کر سنو، واللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ یعنی اللہ تعالی حق بات فرمانے میں نہیں شرماتا، اس کے بعد سنن ابن ماجہ کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: کیا تمہیں کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بھی یقیناً تم اسے بہت برا جانو گے. پھر فرماتے ہیں: سنیو سنیو! اگر سنی ہو تو بگوش سنو ليس لنا مثل السوء التي صارت فراش مبتدع كالتي كانت لفراشِ كلب یعنی ہمارے لیے یہ مثال بری نہیں کہ جو عورت کسی بد مذہب کی بیوی بنی وہ ایسی ہی ہے جیسے کسی کتے کی بیوی بنی، اب یہ معلوم کرنا رہا کہ بد مذہب کتا ہے یا نہیں؟ ہاں ضرور ہے بلکہ کتے سے بھی بدتر و ناپاک تر، کتا فاسق نہیں اور یہ اصل دین و مذہب میں فاسق ہے، کتے پر عذاب نہیں اور یہ عذاب شدید کا مستحق ہے.
پھر سنی مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیوں! دیکھو یہ دام در سبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو، بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں وہاں نہ خوف خدا نہ خلق کی حیا، مگر پیارے سنیو تم نے یہ کیونکر باور کر لیا (سمجھ لیا) کہ بعض وہابی اہل سنت ہیں! عزیزو! کیا اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے یا فلاں نصرانی مومن ہے، جب سنت، وہابیت سے صاف مباین (الگ، ضد) ہے تو ان کا اجتماع (ایک ساتھ جمع ہونا) کیونکر ممکن ہے.
🖋طارق محمود رضوی