امتحان کا اصل مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والوں کی صلاحیت، قابلیت اور ترقی کی رفتار معلوم ہوسکے۔ جب نتیجہ سامنے آتا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ طالب علم کس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اُن کی محنت کس حد تک مفید ثابت ہوئی ہے۔ اسی طرح اساتذہٴ کرام کو بھی اپنے طریقۂ تدریس کا جائزہ ملتا ہے کہ انہوں نے کس قدر محنت کی اور کہاں کمی باقی ہے۔
امتحان کے ذریعے اسباق دہرانے اور پختہ کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ اگر امتحانات نہ ہوں تو اکثر طلبہ مطالعہ میں سستی اختیار کرلیتے ہیں۔ امتحان ذہن کو تازگی بخشتا ہے، معلومات کو مستحضر کرتا ہے اور ہر علم میں اپنی کمزوری و قابلیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ پھر انسان ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کمزوریاں بھی امتحان کے ذریعہ ہی ظاہر ہوتی ہیں، ورنہ بغیر امتحان کے ان کا احساس بھی نہ ہوتا۔
نتیجہ دیکھنے کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ ہر مضمون میں اپنے نمبروں کی روشنی میں غور کیا جائے کہ محنت کتنی کی، وقت کیسے صرف کیا اور کہاں غلطی ہوئی۔ یہ فیصلہ بھی طالب علم خود ہی کو کرنا ہوتا ہے۔
امتحان کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے مافی الضمیر ادا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ انسان علم تو حاصل کر لیتا ہے مگر اسے دوسروں تک صحیح انداز میں پہنچانا بھی ایک ہنر ہے، اور یہ ہنر امتحان سکھاتا ہے۔ تحریری امتحان تحریری صلاحیتوں کو نکھارتا ہے کہ معلومات کو کس ترتیب، اسلوب اور حسنِ بیان کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ اسی طرح تقریری امتحان زبانی اظہار کی قوت کو ابھارتا ہے، سوچنے اور بیان کرنے میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔
یوں معلوم ہوا کہ امتحان تحریری اور تقریری دونوں صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔
ہمارے مدارس میں تحریری امتحانات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور تقریری امتحانات کم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریری امتحانات کے فوائد اپنی جگہ مگر کچھ عملی مشکلات بھی ہیں، مثلاً ایک طالب علم نے پچاس صفحے یاد کئے، مگر امتحان میں چند سوال پوچھے گئے اور اگر بےساختہ جواب نہ دے سکا تو نمبر سے محروم ہوگیا، حالانکہ تحریری امتحان میں سوچ سمجھ کر، ترتیب سے جواب لکھ سکتا ہے۔
لہٰذا امتحان طلبہ کی حقیقی صلاحیتوں کو پہچاننے اور اُنہیں نکھارنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔
✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی