مضامین

ایمان اور عقائدِ اسلامیہ ایک جائزہ

سلمیٰ شاہین امجدی
62
0
اسلامی تعلیمات میں عقائد کو مرکزی اہمیت حاصل ہے کیوں کہ تمام عبادات، معاملات اور نیک اعمال کی قبولیت صحتِ عقیدہ پر موقوف ہے۔ جب تک کسی انسان کا عقیدہ درست نہ ہو اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔ اسی لیے علمائے کرام نے عقائد کی تعلیم کو تمام علوم پر مقدم رکھا ہے اور اسے دینی تعلیم کی بنیاد قرار دیا ہے۔
آج کے دور میں جب ؟فکری و نظریاتی یلغار ہر 
طرف سے جاری ہے، جدید فتنوں نے نئے رنگ و روپ اختیار کر لیے ہیں، اور مسلمانوں کو عقائد و ایمان کے میدان میں پے در پے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایسے نازک وقت میں عقائدِ اسلامیہ کی مضبوط تفہیم نہ صرف ضروری بلکہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
ایمان کی تعریف اور حقیقت
ایمان کی جامع تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر اور ان کے تمام احکامات پر دل سے یقین اور زبان سے اقرار سے کیا جائے۔ ایمان کے دو بنیادی اجزاء ہیں: پہلا یہ کہ عقیدہ دل سے متعلق ہے جو ایمان کی اصل اور روح ہے، دوسرا یہ کہ عمل ظاہری اعضاء سے متعلق ہے۔ صحیح عقیدے کے بے غیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔
ایمان اور اسلام کا باہمی تعلق بھی قابلِ غور ہے۔ اسلام وہ سچا دین ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ خدا ایک ہے، رسول اللہ ﷺ اللہ کے بندے اور آخری نبی ہیں، اور ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ ان کی شریعت پر ایمان لانا نجات کے لیے ضروری ہے۔
 اسلام کی  بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: کلمۂ شہادت کا زبان و دل سے اقرار، نماز، زکوٰۃ، روزہ، اور حج یہ پانچوں ارکان مل کر ایک مکمل دینی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقائد
اللہ تعالیٰ تنہا اور یکتا ہے، پاک اور بے عیب ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کا کوئی مثل و شریک نہیں اور وہ تمام صفاتِ کمالیہ کا جامع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمالیہ جن پر ایمان لانا ضروری ہے وہ یہ ہیں: حیات، علم، سمع، بصر، ارادہ، قدرت، کلام اور تکوین۔
توحید کے باب میں شرک کی دو صورتیں خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں: ذات میں شرک یعنی اللہ کی ذات میں کسی دوسرے خدا کو ماننا جیسے مجوسی، عیسائی  صفات میں شرک یعنی اللہ کی کسی صفت کو کسی مخلوق میں ثابت کرنا، خواہ وہ فرشتہ ہو، نبی ہو، ولی ہو یا امام
  •  فرشتوں پر ایمان
فرشتے اللہ کے معصوم و مکرم بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا اور ہماری نگاہوں سے پوشیدہ رکھا، ان کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ چار مشہور و مقرب فرشتے یہ ہیں: جبرئیل علیہ السلام جو اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور احکام پیغمبروں تک پہنچاتے تھے، اسرافیل علیہ السلام جو قیامت میں صور پھونکیں گے، میکائیل علیہ السلام جو بارش کا انتظام کرنے اور مخلوق کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں، اور عزرائیل علیہ السلام جو مخلوق کی روح نکالنے پر مقرر ہیں۔ 
 آسمانی کتابوں پر ایمان
اللہ تعالیٰ کی چار مشہور آسمانی کتابیں ہیں: تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر، زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر، انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، اور قرآن مجید رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے، مخلوق نہیں۔ الحمد للہ! قرآن مجید کے کل تیس پارے ہیں اور یہ ہمارے پاس مکمل موجود و محفوظ ہے، اگر کوئی اس میں شک کرے تو وہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ تورات، زبور اور انجیل کا آسمانی کتاب ہونا قرآن مجید کے ذریعے معلوم ہوا، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پائی جانے والی تورات اور انجیل محرف و منسوخ ہیں۔
انبیاء کرام پر ایمان
انبیاء کرام وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک احکامات پہنچانے کے لیے مبعوث فرمایا۔ نبی اور رسول کا فرق یہ ہے کہ رسول وہ نبی ہوتے ہیں جن پر نئی شریعت یا کتاب نازل کی گئی ہو۔ انبیاء کرام کے لیے بعثت سے پہلے اور بعد عصمت، امانت اور صداقت لازم ہے۔ کوئی بھی اخلاقی عیب کسی نبی میں ذرا برابر بھی نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی رسول اللہ ﷺ ہیں۔
 قرآن مجید میں پچیس انبیاء و رسولوں کے نام کا تذکرہ ہے۔ ختمِ نبوت پر ایمان رکھنا فرض ہے۔ جو اس کا انکار کرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
قیامت اور آخرت پر ایمان
قیامت کا دن وہ دن ہے جب اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے، ہر چیز فنا ہو جائے گی، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور تمام انسان اپنی قبروں سے اٹھ کر میدانِ محشر میں جمع ہوں گے۔ قرب قیامت کی مشہور علامات جن پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں شامل ہیں: ظہورِ مہدی، خروجِ دجال، حضرت عیسیٰ ابنِ مریم کا آسمان سے اترنا، یاجوج و ماجوج کا خروج، دابۃ الارض کا نکلنا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، آگ اور دھوئیں کا نکلنا۔ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
عالمِ برزخ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک عالم ہے جس میں قبر تک مردے کی روح رہتی ہے۔ قبر سے مراد گڑھا نہیں بلکہ عالمِ برزخ ہے اور اس پر ہر مسلمان کے لیے ایمان لانا ضروری ہے۔ قبر کا عذاب اور منکر نکیر کا سوال برحق ہے، میزان اور صراطِ پل بھی برحق ہیں۔
شفاعتِ کبریٰ اور شفاعتِ صغریٰ دونوں ثابت ہیں۔ شفاعتِ کبریٰ یہ ہے کہ قیامت کے دن حضور ﷺ امتِ مسلمہ کے گناہ گاروں کی سفارش کریں گے اور شفاعتِ صغریٰ یہ کہ دیگر نیک لوگوں کو بھی شفاعت کا حق دیا جائے گا۔ جو لوگ شفاعت کے منکر ہیں وہ گمراہی پر ہیں۔
عقائد کی حفاظت کے اسباب
علمائے کرام نے عقائد کی حفاظت کے لیے جو اسباب بیان فرمائے ہیں وہ نہایت جامع اور عملی ہیں: پنج وقتہ نماز باجماعت، قرآن مجید کی روزانہ تلاوت، اللہ کا ذکر، درود و سلام کی کثرت، سورۃ کہف کی تلاوت، سنت کے مطابق زندگی گزارنا، علمائے حق کے بیانات سننا، اسلامی عقائد کا مسلسل مطالعہ، فتنے والی جگہوں اور مجلسوں سے بچنا، ایمان اور عقائد وہ بنیاد ہے جس پر اسلامی زندگی کی پوری عمارت قائم ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو عبادت، معاملات اور اخلاق سب درست ہو جاتے ہیں، اور اگر بنیاد کمزور ہو تو سب کچھ بے کار ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے عقائد کو صحیح ذرائع سے سیکھے، علمائے اہلِ سنت کی رہنمائی میں رہے، فتنوں اور گمراہ فرقوں سے ہوشیار رہے، اور اپنی نسلوں کو بھی درست عقائد پر تربیت دے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح عقائد پر ثابت قدم رکھے، فتنوں سے محفوظ فرمائے، اور ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت فرمائے۔

*آمین بجاہ سیدِ عالم ﷺ*