میاں بیوی کا رشتہ محض ایک ساتھ زندگی گزارنے کا نام نہیں، بلکہ محبت، اعتماد، وفا، حقوق و فرائض اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے بندھا ہوا ایک مقدس عہد ہے۔
مگر افسوس کہ آج بعض خواتین کے درمیان شوہر کی نافرمانی کو معمولی سمجھنے، اس کے جائز حقوق سے بے اعتنائی کرنے اور ازدواجی معاملات کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب شوہر کو اپنے قابو میں رکھنا، اپنی مرضی کے مطابق چلانا اور اسے ’’بس میں‘‘ کرنا ذہانت یا کامیابی سمجھا جانے لگے۔
اختلافِ رائے ہر گھر میں ہو سکتا ہے، رنجش بھی ہو سکتی ہے، لیکن اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رشتے کی حرمت بھلا دی جائے، گھر کے راز دوسروں کی مجلسوں تک پہنچائے جائیں یا شوہر کے جائز حقوق کو نظر انداز کیا جائے۔ ایک مسلمان عورت کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کا شوہر اس کے بس میں ہو، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کا نفس اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بس میں ہو۔
آج ایک عوامی اسلامی بہن سے گفتگو کے دوران وہ اپنی اور اپنے شوہر کی ذاتی و گھریلو باتیں وہاں موجود دیگر اسلامی بہنوں کے سامنے بیان کر رہی تھیں۔ میں خاموشی سے نہایت غور اور توجہ کے ساتھ ان کی گفتگو سن رہی تھی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے یہ بھی کہا کہ پڑھی لکھی عورتیں فائدہ مند رہتی ہیں، دم کرکے شوہر کو اپنے بس میں کر لیتی ہیں۔
میں نے عرض کیا: ’’نہیں، وہ اللہ کا خوف رکھتی ہیں، اس لیے کسی کو بس میں نہیں کرتیں۔‘‘
اس پر وہ بہن کہنے لگیں: ’’تم میرے ساتھ تو رہو، تم بھی یہی چاہو گی کہ تمہارا شوہر بس میں ہو۔‘‘
میں نے مسکرا کر جواب دیا: ’’نہیں، مجھے ایسی صحبت نہیں چاہیے۔‘‘
وہ بہن بھی قہقہ لگا کر ہنس رہی تھیں اور وہاں موجود دوسری اسلامی بہنیں بھی ہنس رہی تھیں، مگر مجھے ہنسی نہیں آئی۔ میں تو ان چند جملوں کے بعد سوچوں کے سمندر میں ڈوب چکی تھی۔
سوچ رہی تھی کہ ہم مسلمان عورتیں آخر کس چیز کو کامیابی سمجھنے لگی ہیں؟ شوہر کو اپنے قابو میں رکھنا یا اللہ کی رضا کے لیے اپنے نفس کو قابو میں رکھنا؟
شوہر کو بس میں کرنا کوئی کمال نہیں؛ اپنے نفس کو اللہ کے تابع کرنا اصل کمال ہے۔
بہنو! شوہر سے اختلاف ہو تو حکمت سے بات کیجیے، ناراضی ہو تو اصلاح کی راہ اختیار کیجیے، اور اگر کوئی حقیقی مسئلہ ہو تو اہلِ علم اور سمجھ دار لوگوں سے مشورہ لیجیے؛ لیکن اپنے گھر کے نجی معاملات کو مجلس کی گفتگو نہ بنائیے، شوہر کے جائز حقوق کو معمولی نہ سمجھیے اور نافرمانی یا غلبے کی سوچ کو فخر کا سبب نہ بنائیے۔
یاد رکھیے، ایک نیک عورت اپنے شوہر پر حکومت کرنے کی خواہش نہیں رکھتی، بلکہ اپنے گھر میں اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتی ہے۔ وہ شوہر کو اپنے بس میں کرنے کے بجائے یہ چاہتی ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے تابع رہیں۔
اور اگر کبھی کسی مجلس میں ایسی بات ہو جس پر سب ہنس رہے ہوں، مگر دل کہہ رہا ہو کہ یہاں ہنسنے نہیں، سوچنے کی ضرورت ہے، تو ذرا رک کر اپنے آپ سے پوچھیے:
کیا میری صحبت مجھے اللہ کے قریب کر رہی ہے یا نافرمانی کو معمول بنا رہی ہے؟
کیونکہ صحبت صرف وقت نہیں بدلتی، سوچ بدل دیتی ہے؛ اور جب سوچ بدل جائے تو کردار بھی بدل جاتا ہے۔
✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی