آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیوں؟
سب جانتے ہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود اور بچے کی پہلی معلمہ اس کی ماں ہے۔
لیکن کیا اس دورِ جدید میں یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جب بچہ روتا ہے تو ماں اسے اسلامی لوریاں یا نعتِ پاک سنا کر خاموش کراتی ہو؟
بالکل نہیں!
بلکہ وہ روتے ہوئے بچے کے سامنے موبائل پر کارٹون لگا کر رکھ دیتی ہے۔ وہ بچہ، جو ابھی ناسمجھ ہے، ان رنگ برنگی چیزوں کو دیکھ کر رونا بند کر دیتا ہے۔ جب بچہ کارٹون دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے تو ماں اسی نسخے کو اپنا معمول بنا لیتی ہے۔ اب دھیرے دھیرے بچے کو موبائل کی لت پڑ جاتی ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، اس کی پسند بدلنے لگتی ہے اور وہ کارٹون کے بجائے اپنی من پسند (اور بعض اوقات غیر اخلاقی) چیزیں دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اب اگر والدین منع کریں تو وہ نہیں مانتا۔ اپنی زبان سے اچھے الفاظ نکالنے کے بجائے بدتمیزی اور غلط الفاظ بولتا ہے۔
ایسا کیوں ہوا؟
کیوں کہ جس عمر میں بچے کو دینی ماحول سے وابستہ رکھنا تھا، محبتِ رسول ﷺ کا جام پلانا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کی سیرتِ مبارکہ بتانی تھی، اور صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم جیسے مردِ مجاہد کی داستانیں سنانی تھیں، اس عمر میں بچے کے معصوم ہاتھوں میں موبائل تھما دیا گیا۔
اب آپ ہی بتائیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوئی یا موبائل فون؟
درسگاہ میں بچوں کو وہی تعلیم دی جاتی ہے جو اہلِ درسگاہ کے پاس ہوتی ہے۔
آج کے ماحول کے حساب سے تمام والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو سب سے پہلے قرآن و سنت کی تعلیم دیں، انہیں دینی ماحول فراہم کریں، اور موبائل جیسی اشیاء سے بچوں کو دور رکھیں۔
والدین بچوں کے حقوق کو بخوبی انجام دیں، اور بالخصوص مائیں اپنی گود کو دوبارہ حقیقی و دینی درسگاہ بنائیں تاکہ آنے والی نسلوں میں پھر کوئی صلاح الدین ایوبی کا جانشین یا محمد بن قاسم جیسا مردِ مجاہد پیدا ہو، جو اہلِ فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم و بربریت سے نجات دلائے، مسجدِ اقصیٰ کو ظالموں کے قبضے سے آزاد کرائے، اور باطل حکمرانوں کے تخت و تاج کو نیست و نابود کر دے۔
آج ہماری قوم کو ایسے ہی مصلحین اور غازیوں کی ضرورت ہے۔ میں ہر ماں سے یہ گزارش کروں گی کہ وہ اپنی اولاد کے ہاتھ میں موبائل فون دینے سے قبل اپنے بچوں کے اور قوم کے مستقبل کے بارے میں ضرور سوچیں!!!