مضامین

جشن آزادی اور میلاد مصطفیٰ ﷺ

عظمیٰ فاطمہ بنت محمد میاں خان
74
1
آج پورے ہندوستان میں جشن آزادی منایا جائے گا۔ ہر گاؤں، ہر شہر اور ہر علاقے میں اسکولوں کی ریلیاں نکلیں گی، پروگرام ہوں گے، پرچم لہرائے جائیں گے اور آزادی کی خوشی کا اظہار کیا جائے گا۔ اس موقع پر ہمیں کسی کی خوشی سے اختلاف نہیں، لیکن ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے:
اگر کسی قومی موقع پر ریلی نکالنا جائز ہے اور اسے بدعت یا جہنم میں لے جانے والا عمل نہیں کہا جاتا، تو پھر ۱۲ ربیع الاول شریف، ولادت باسعادت مصطفیٰ ﷺ کی خوشی میں ریلی نکالنے، پرچم لہرانے اور چراغاں کرنے کو بدعت کیوں کہا جاتا ہے؟
آخر فرق کیا ہے؟
ہم اپنے پیارے آقا، رحمت عالم ﷺ کی ولادت باسعادت پر خوشی کا اظہار کیوں نہ کریں؟
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ
(سورۃ الانبیاء: ۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان:
"اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔"

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، تو اس رحمت کے ظہور پر خوشی منانا محبت رسول ﷺ کا تقاضا کیوں نہ ہو؟
حدیث پاک سے دلیل
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ»
ترجمہ:
(صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث: ۱۱۶۲)
"یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔"
اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو یاد فرمایا اور اس دن روزہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا فرمایا۔
نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیا میں جلوہ فرما ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کے لیے جلوس نکالنا، پرچم لہرانا، جلوس میں شرکت کرنا اور اپنی استطاعت کے مطابق چراغاں اور روشنی کرنا جائز و مستحسن ہے۔
«جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا 
یاد اُس کو اپنی عادت کیجیے ﷺ
(کلامِ رضا علیہ الرحمہ)»
جن کے صدقے میں ہمیں ایمان ملا، زندگی ملی، عزت ملی، قرآن ملا، اسلام ملا؛ جن کے طفیل ہمیں اپنے رب کی معرفت نصیب ہوئی، ان کی ولادت باسعادت کی خوشی میں اگر کوئی مسلمان درود و سلام پڑھتے ہوئے، نعتیں پڑھتے ہوئے اور محبت رسول ﷺ کا اظہار کرتے ہوئے نکلتا ہے، تو اسے محض بدعت کہہ دینا انصاف نہیں۔
یہ ریلی محض ایک جلوس نہیں، بلکہ محبت مصطفیٰ ﷺ کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔
«شرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب ﷺ
اس برے مذہب پہ لعنت کیجیے
(کلامِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ)»

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبت مصطفیٰ ﷺ، ادب رسول ﷺ اور اتباع سنت کی دولت عطا فرمائے۔اور میلادمصطفیٰ ﷺ  کی خوشی کو سنت و شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے منانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔