مضامین

خاموشی ایک عظیم نعمت

مہناز نوری فاطمی بنت محمد نوراللہ برکاتی
50
1
خاموشی ایک عظیم طاقت، باوقار جواب اور گہری حکمت کا نام ہے، جو الفاظ سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ خاموشی انسان کو فضول گوئی، شیطان کی پیروی اور پچھتاوے سے بچاتی ہے۔ خاموشی ذہنی سکون، غور و فکر کا موقع اور باہمی تعلقات میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
خاموشی انسان کو فضول گوئی، شیطان کی پیروی اور بعد کے پچھتاوے سے بچاتی ہے۔ یہ دل کو سکون دیتی ہے، سوچ کو گہرائی بخشتی ہے اور انسان کو خود اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ بہت سی غلط فہمیاں، جو چند الفاظ سے جنم لیتی ہیں، خاموشی سے خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔
اگر کوئی آپ کو تکلیف دے، طنز کرے یا آپ سے الجھنے کی کوشش کرے، تو یاد رکھیں! ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی سب سے باوقار جواب ہوتی ہے۔ کیونکہ جب بات بڑھتی ہے تو رشتے ٹوٹتے ہیں، اور جب انسان رک جاتا ہے تو بہت کچھ بچ جاتا ہے۔
اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر کے خاموش ہو جانا کمزوری نہیں، بلکہ یقین کی سب سے بڑی علامت ہے۔ وقت کیوں کہ جنہیں ہم جواب نہیں دے سکتے وقت انہیں خود بخود جواب دیتا ہے اور ہر باطل کو بے نقاب کر دیتا ہے۔
جب الفاظ ساتھ چھوڑ دیں تو خاموشی سب سے مضبوط سہارا بن جاتی ہے۔ یہ نہ صرف ہماری دنیا کو پُرسکون بناتی ہے بلکہ ہماری آخرت کو بھی سنوارتی ہے، کیونکہ انسان کے اکثر گناہ اس کی زبان سے نکلتے ہیں۔ جو شخص اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے، وہ بہت سی برائیوں سے خود کو بچا لیتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ خاموشی نجات کا ذریعہ ہے۔ اس ایک جملے میں پوری زندگی کا سکون چھپا ہوا ہے۔ جو شخص بولنے سے پہلے رکنا سیکھ جائے، وہ بہت سی مصیبتوں سے بچ جاتا ہے۔
خاموشی انسان کو اپنے رب کے قریب لے جاتی ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب دل دنیا کے شور سے نکل کر حقیقت کی آواز سننے لگتا ہے۔ یہی خاموشی انسان کو پہچان دیتی ہے، اس کی عقل کو پختگی اور اس کے کردار کو وقار عطا کرتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جتنا انسان عقل میں پختہ ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی اس کی زبان مختصر اور اس کی خاموشی گہری ہوتی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ ہر بات کہنے کے لیے نہیں ہوتی، اور ہر سچ بولنا ضروری نہیں ہوتا۔
جب غصہ آئے تو خاموشی کو اپنا سہارا بنا لیں، کیونکہ ایک لمحے کا صبر، برسوں کے پچھتاوے سے بچا لیتا ہے۔ خاموشی وہ ڈھال ہے جو رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے اور دلوں کو جڑنے کا موقع دیتی ہے۔
خاموشی ایک ایسا زیور ہے جو انسان کی شخصیت کو وقار، سنجیدگی اور کشش عطا کرتا ہے۔ یہ کم گوئی اور سوچ سمجھ کر بولنے کی وہ عادت ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے۔
یاد رکھیں—ہر وہ بات جو کہی جا سکتی ہے، ضروری نہیں کہ کہی ہی جائے… کیونکہ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے خوبصورت، سب سے طاقتور اور سب سے سچا جواب ہوتی ہے۔