مضامین

دعا کی اہمیت اور ہماری غفلت

مہناز نوری فاطمی بنت محمد نوراللہ برکاتی
74
0
وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- (سورہ مومن۔ آیت٦٠)
ترجمہ کنزالایمان:- “اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”
دعا مؤمن کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے، ایک ایسا وسیلہ جو بندے کو اللہ کے قرب تک پہنچاتا ہے۔ یہ اللہ اور بندے کے درمیان خالص محبت اور عاجزی کا رشتہ ہے، جس کے ذریعے ہم اپنے دل کی ہر تکلیف، ہر ضرورت، اور ہر راز اپنے رب کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔
جب دنیا کے ہر راستے بند نظر آئیں، مشکلات کے بادل چھا جائیں، اور دل مایوسی سے بھر جائے، تب دعا ہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں رہنمائی کرتی ہے، وہ سہارا ہے جو ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالتی ہے، اور وہ طاقت ہے جو کمزور کو مضبوط بناتی ہے۔
لیکن افسوس کہ آج کل بہت سے لوگ دعا میں غفلت برتتے ہیں۔ دعا میں کوتاہی ایک روحانی بیماری ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے، دل سخت کر دیتی ہے، اور گناہ کے بعد پشیمانی کی روشنی بھی بجھا دیتی ہے۔
یاد رکھیں، دعا صرف مطالبہ نہیں بلکہ بندے کی عاجزی اور اللہ کی لامحدود قدرت کا اعتراف ہے۔ عبادات کی قبولیت کی کلید بھی دعا میں پوشیدہ ہے۔ جو عبادت کرے اور دل سے دعا کرے کہ اللہ اسے قبول فرمائے، اس کی عبادت اللہ کی بارگاہ میں روشنی اور قربت کا باعث بنتی ہے۔
دعا کریں، عاجزی کے ساتھ سر جھکائیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ اپنے بندے کی پکار کبھی رد نہیں کرتا۔ یہی دعا کا حقیقی حسن ہے، یہی بندے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔