مضامین

دنیاوی محبت

سید عرفان رضا القادری
71
3
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسا دل عطا فرمایا ہے جس میں محبت، شفقت، انس اور وابستگی کے جذبات رکھے گئے ہیں۔ محبت انسانی فطرت کا ایک اہم حصہ ہے۔ انسان اپنے والدین سے محبت کرتا ہے، اولاد سے محبت کرتا ہے، اپنے گھر، مال، دوستوں اور اپنی پسندیدہ چیزوں سے محبت کرتا ہے۔ اسلام محبت کے اس فطری جذبے کو ختم کرنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ اسے صحیح رخ عطا کرتا ہے۔ اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول ﷺ کے لیے ہو، جبکہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے محبت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کے تابع رہے۔
دنیاوی محبت اگر اعتدال کے ساتھ ہو، شریعت کی حدود میں ہو اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور آخرت کی تیاری سے غافل نہ کرے تو یہ فطری اور جائز ہے۔ لیکن جب یہی محبت انسان کے دل پر اس قدر غالب آجائے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو پسِ پشت ڈال دے، گناہ کی طرف لے جائے، فرائض سے غافل کردے اور آخرت کو بھلا دے، تو یہی محبت انسان کے لیے آزمائش اور تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔
قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بار بار انسان کو دنیا کی حقیقت، اس کی عارضی زندگی اور محبت کے صحیح مقام سے آگاہ کیا گیا ہے۔
محبت کا اصل مرکز کون ہے؟
اسلام کی سب سے بنیادی تعلیم یہ ہے کہ بندۂ مؤمن کے دل میں سب سے اعلیٰ اور سب سے مضبوط محبت اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ﴾
ترجمہ: اور جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سچے اہلِ ایمان کی محبت کا سب سے بڑا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ دنیا کی ہر محبت محدود، عارضی اور فانی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی محبت دائمی، حقیقی اور انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اس کے احکام کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے۔ صرف زبان سے محبت کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ سچی محبت اطاعت، فرمانبرداری اور قربانی کا نام ہے۔
دنیاوی محبت کی حقیقت
دنیاوی محبت سے مراد دنیا کی ان چیزوں سے محبت ہے جن سے انسان کا دل وابستہ ہوجاتا ہے، جیسے مال، اولاد، خاندان، کاروبار، گھر، مقام و مرتبہ اور دنیا کی دیگر نعمتیں۔
یہ تمام چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے بری نہیں ہیں۔ مال اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، والدین سے محبت عبادت ہے اور اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک دین کی تعلیم ہے۔ مسئلہ ان چیزوں کا ہونا نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی محبت انسان کے دل میں کس مقام پر ہے۔
اگر دنیا انسان کے ہاتھ میں ہو تو نعمت ہے، لیکن اگر دنیا دل میں اس طرح بس جائے کہ اللہ تعالیٰ اور آخرت بھلا دی جائے تو یہی دنیا نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ﴾
ترجمہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
اس آیت کی وضاحت
اس آیتِ کریمہ میں دنیا کی زندگی کی حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔ انسان دنیا میں آتا ہے، بچپن گزارتا ہے، جوانی کی رنگینیوں میں مشغول ہوتا ہے، پھر مال و جاہ اور اولاد میں ترقی کی کوشش کرتا ہے، لیکن آخرکار دنیا کی ہر چیز کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
دنیا کی خوبصورتی، اس کی رونق، مال و دولت اور مقام و مرتبہ سب عارضی ہیں۔ جو چیز آج انسان کے لیے سب سے زیادہ قیمتی محسوس ہوتی ہے، ممکن ہے کل وہ اس کے ہاتھ میں بھی نہ رہے۔ اس لیے عقل مند وہ ہے جو دنیا کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے، نہ کہ آخرت کو دنیا کی خاطر قربان کردے۔
دنیا سے محبت انسان کے لیے آزمائش ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾
ترجمہ: تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔
یہاں مال اور اولاد کو آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مال اور اولاد بری چیزیں ہیں، بلکہ یہ انسان کے امتحان کا ذریعہ ہیں۔
انسان کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ مال کمانے کے لیے حلال راستہ اختیار کرتا ہے یا حرام؟ وہ اپنی اولاد کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو مقدم رکھتا ہے یا خواہشات کا غلام بن جاتا ہے؟ وہ دنیا کی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے؟
اگر انسان مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کرے، والدین اور اہلِ خانہ کے حقوق ادا کرے، محتاجوں کی مدد کرے اور اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرے تو یہی دنیاوی محبت اس کے لیے نیکی اور اجر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر مال کی محبت اسے ظلم، دھوکے، حرام کمائی اور گناہ کی طرف لے جائے تو یہی چیز اس کے لیے وبال بن جاتی ہے۔
جب دنیا کی محبت اللہ کی محبت پر غالب ہوجائے
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا﴾
ترجمہ: فرما دیجیے! اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان، وہ مال جو تم نے کمایا ہے، وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں خوف ہے اور وہ گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں کوشش کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو۔
یہ آیت انسان کے دل کے سامنے ایک عظیم معیار رکھتی ہے۔ والدین، اولاد، خاندان، مال، تجارت اور گھر سب انسان کے لیے محبوب ہوسکتے ہیں، لیکن کوئی بھی محبت اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی محبت سے بڑھ کر نہیں ہونی چاہیے۔
اس آیت کا مقصد یہ نہیں کہ انسان اپنے والدین، بچوں یا گھر سے محبت کرنا چھوڑ دے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اگر کبھی اللہ تعالیٰ کا حکم اور انسان کی دنیاوی خواہش آمنے سامنے آجائیں تو مؤمن اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترجیح دے۔
رسولِ اکرم ﷺ سے محبت اور ایمان
حضور نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
یہ حدیثِ مبارکہ محبتِ رسول ﷺ کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ سے محبت محض ایک جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی سنت سے محبت، آپ ﷺ کے فرمان کی اطاعت اور آپ ﷺ کے طریقے پر چلنے کا نام ہے۔
جو شخص دنیا کی محبت میں رسولِ اکرم ﷺ کی سنت کو چھوڑ دے، گناہوں کو اختیار کرے اور دین کے احکام کو بوجھ سمجھے، اسے اپنے دل کی کیفیت پر غور کرنا چاہیے۔ سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی رضا کو اپنی خواہش پر مقدم رکھا جائے۔
دنیا عارضی ہے اور آخرت باقی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾
ترجمہ: اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
دنیا کی زندگی انسان کو اپنی چمک دمک سے دھوکے میں ڈال سکتی ہے۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے پاس موجود مال، طاقت اور مقام ہمیشہ باقی رہیں گے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی سامان دائمی نہیں۔
انسان خالی ہاتھ دنیا میں آتا ہے اور دنیا کی ظاہری چیزوں کو یہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کے اعمال جاتے ہیں۔ اسی لیے کامیاب انسان وہ نہیں جس نے صرف دنیا حاصل کرلی، بلکہ حقیقی کامیاب وہ ہے جس نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت سنوار لی۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾
ترجمہ: اور آخرت بہتر بھی ہے اور زیادہ باقی رہنے والی بھی۔
یہ مختصر مگر عظیم پیغام انسان کو زندگی کی ترجیحات درست کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ دنیا چند روزہ ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ عارضی چیز کو دائمی چیز پر غالب نہ آنے دیا جائے۔
دنیا کی محبت کا سب سے بڑا نقصان
دنیا کی محبت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرسکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾
ترجمہ: زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش نے تمہیں غافل کردیا۔
انسان کی ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری پیدا ہوجاتی ہے۔ زیادہ مال، زیادہ شہرت، زیادہ مقام اور دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش بعض اوقات انسان کو ایسی دوڑ میں ڈال دیتی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا۔
اسی لیے مؤمن کو چاہیے کہ وہ ترقی کرے، محنت کرے، حلال روزی کمائے اور کامیابی حاصل کرے، مگر اپنے مقصدِ حیات کو نہ بھولے۔ دنیا میں رہنا ضروری ہے، لیکن دنیا کے لیے اس طرح جینا کہ آخرت بھول جائے، یہ دانش مندی نہیں۔
مال کی محبت اور اس کا صحیح استعمال
اسلام مال کمانے سے نہیں روکتا۔ بلکہ حلال طریقے سے رزق کمانا، اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا نیکی کے کام ہیں۔
لیکن مال انسان کا خادم ہونا چاہیے، انسان مال کا غلام نہیں۔
جب مال کی محبت اس حد تک پہنچ جائے کہ انسان حلال و حرام کی تمیز بھول جائے، زکوٰۃ ادا نہ کرے، غریبوں کے حقوق دبائے اور دولت کی خاطر رشتوں اور دین کو قربان کردے، تو یہ محبت خطرناک ہوجاتی ہے۔
نبیِ کریم ﷺ نے دنیا کی بے اعتدال محبت اور مال کے فتنے سے امت کو خبردار فرمایا۔ مال اس وقت تک فائدہ مند ہے جب تک وہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور نہ کرے۔
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال کمائے، لیکن حلال کمائے؛ مال رکھے، لیکن دل اس کا غلام نہ بنے؛ مال سے فائدہ اٹھائے، مگر اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرتا رہے۔
اہل و عیال سے محبت
والدین، اولاد اور خاندان سے محبت ایک فطری اور پسندیدہ جذبہ ہے۔ اسلام نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، اولاد کی تربیت اور اہلِ خانہ کے حقوق ادا کرنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔
لیکن بعض اوقات انسان اپنے خاندان کی محبت میں غلط کاموں کی حمایت کرنے لگتا ہے۔ اگر اپنا عزیز ظلم کرے تو اس کا ساتھ دینا، اگر کوئی غلطی کرے تو محض رشتہ داری کی وجہ سے اسے حق پر ترجیح دینا، یا خاندان کی خاطر دین کے حکم کو چھوڑ دینا، یہ درست نہیں۔
سچی محبت یہ نہیں کہ انسان اپنے پیاروں کی ہر غلط بات کو بھی صحیح کہے، بلکہ سچی محبت یہ ہے کہ انہیں نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے بچانے کی کوشش کرے۔
دنیاوی محبت اور گناہ
جب محبت شریعت کی حدود سے نکل جائے تو انسان گناہوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ کسی شخص، مال، شہرت یا خواہش کی محبت انسان کو اس حد تک نہ لے جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی شروع کردے۔
مؤمن کو اپنے دل کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے:
کیا میری کسی محبت کی وجہ سے نماز میں کوتاہی ہورہی ہے؟
کیا کسی چیز کی خواہش مجھے حرام کی طرف لے جارہی ہے؟
کیا دنیا کی مصروفیت مجھے قرآن اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے دور کررہی ہے؟
کیا میں کسی دنیاوی فائدے کے لیے حق کو چھوڑ رہا ہوں؟
اگر جواب ہاں میں ہو تو انسان کو فوراً اپنی اصلاح کرنی چاہیے، کیونکہ دل کی محبت انسان کے اعمال پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
دنیا کو چھوڑنا نہیں، دل سے اس کی غلامی ختم کرنا ہے
اسلام رہبانیت کا دین نہیں۔ مسلمان کو دنیا سے بھاگنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ انسان تجارت کرسکتا ہے، محنت کرسکتا ہے، تعلیم حاصل کرسکتا ہے، گھر بنا سکتا ہے اور دنیا کی جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ دنیا دل پر حکومت نہ کرے۔
ایک مسلمان کے پاس مال ہو، لیکن مال کی وجہ سے اس کا غرور نہ بڑھے۔ اس کے پاس گھر ہو، لیکن گھر کی محبت اسے نماز سے غافل نہ کرے۔ اسے اپنے بچوں سے محبت ہو، لیکن وہ ان کی دینی تربیت کو نظر انداز نہ کرے۔ وہ تجارت کرے، لیکن تجارت اسے حرام کی طرف نہ لے جائے۔
یعنی دنیا ہاتھ میں ہو، دل میں نہ ہو۔
یہی اعتدال اسلامی زندگی کی خوبصورتی ہے۔
دنیاوی محبت کو درست کرنے کے طریقے

۱۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کیجیے
جتنا انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے، اتنی ہی اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے۔ قرآنِ مجید کی تلاوت، اس کے معنی پر غور اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سوچنا محبتِ الٰہی کو مضبوط کرتا ہے۔

نماز انسان کو بار بار یاد دلاتی ہے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ دنیا کی مصروفیات میں بھی نماز کو مقدم رکھنا دنیاوی محبت پر قابو پانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
۳۔ قرآنِ مجید سے تعلق مضبوط کیجیے
قرآن انسان کو دنیا کی حقیقت، آخرت کی دائمی زندگی اور کامیابی کے اصل راستے سے آگاہ کرتا ہے۔ جو شخص روزانہ قرآن سے تعلق رکھتا ہے، اس کے دل میں دنیا کی حقیقت واضح ہوتی رہتی ہے۔
۴۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت اور سنت کو اپنائیے
رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات انسان کو محبت، اعتدال، سادگی، سخاوت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا سکھاتی ہیں۔ محبتِ رسول ﷺ انسان کی زندگی کو صحیح سمت عطا کرتی ہے۔
۵۔ موت اور آخرت کو یاد رکھیے
انسان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی زندگی ہمیشہ باقی نہیں رہے گی۔ ہر شخص کو ایک دن اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ آخرت کی یاد دنیا کی بے جا محبت کو کم کرتی ہے اور انسان کو نیکی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
۶۔ شکر اور قناعت اختیار کیجیے
ہر وقت دوسروں سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش انسان کو بے چین رکھتی ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس پر شکر ادا کرنا اور حلال طریقے سے بہتری کی کوشش کرنا دل کو سکون دیتا ہے۔
دنیا اور آخرت میں توازن
ایک مسلمان کو نہ تو دنیا میں بالکل گم ہوجانا چاہیے اور نہ دنیا کی جائز ذمہ داریوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔ اسلام توازن کا دین ہے۔
دنیا میں محنت کیجیے، لیکن آخرت کو نہ بھولیے۔
رزق کمائیے، لیکن حلال طریقے سے۔
اپنے گھر والوں سے محبت کیجیے، لیکن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کا ساتھ نہ دیجیے۔
ترقی کیجیے، لیکن غرور سے بچیے۔
دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیے، لیکن ان نعمتوں کے دینے والے کو نہ بھولیے۔
یہی وہ راستہ ہے جس سے دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی۔
خلاصۂ کلام
دنیاوی محبت بذاتِ خود بری نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں محبت کا جذبہ پیدا فرمایا ہے۔ مال، اولاد، والدین، اہلِ خانہ اور دنیا کی جائز نعمتوں سے محبت فطری ہے۔ لیکن ایک مسلمان کی سب سے بڑی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہونی چاہیے۔
دنیا کی ہر محبت اس وقت خوبصورت ہے جب وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرے، نیکی پر ابھارے اور آخرت کی تیاری میں مدد دے۔ لیکن جب دنیا کی محبت انسان کو نماز سے غافل کردے، حرام کی طرف لے جائے، گناہوں میں مبتلا کرے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر آمادہ کرے تو یہی محبت نقصان اور آزمائش بن جاتی ہے۔
لہٰذا ہمیں اپنے دلوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارے دل میں سب سے بڑی محبت کس کی ہے۔
کامیاب وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کا غلام نہ بنے، مال رکھے مگر مال کا غلام نہ ہو، خاندان سے محبت کرے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کو سب سے مقدم رکھے، اور ہر محبت کو محبتِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کے تابع کردے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح محبت عطا فرمائے، دنیا کی بے جا محبت سے محفوظ رکھے، اپنے ذکر اور اطاعت کی توفیق دے، قرآنِ مجید کی تعلیمات پر عمل کی سعادت نصیب فرمائے اور ہمارے دلوں کو اپنی اور اپنے محبوب رسول ﷺ کی سچی محبت سے بھر دے۔
آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ
—————————————————
ازقلم: سید عرفان رضا القادری