پہلی مشابہت! ٹھہراؤ نہیں
پانی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا بہتا رہتا ہے، آگے بڑھتا رہتا ہے۔ آج یہاں ہے، کل وہاں چلا جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح دنیا کی دولت، عزت، شہرت اور خوشیاں بھی کسی ایک شخص کے پاس نہیں ٹھہرتیں۔ آج جو بادشاہ ہے کل فقیر ہو جاتا ہے، آج جو امیر ہے کل خالی ہاتھ ہو جاتا ہے۔ تاریخ ایسے لاتعداد واقعات سے بھری پڑی ہے۔
جو شخص دنیا کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھنے کا خواب دیکھتا ہے وہ ایک ناممکن خواب دیکھتا ہے۔
دوسری مشابہت! بدلتی حالتیں
پانی کبھی ایک حالت پر نہیں رہتا۔ کبھی برف بن جاتا ہے، کبھی بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے، کبھی سیلاب بن جاتا ہے، کبھی خشک ہو جاتا ہے۔
دنیا بھی ٹھیک اسی طرح ہر لمحہ بدل رہی ہے۔ آج خوشی ہے تو کل غم ہے، آج صحت ہے تو کل بیماری ہے، آج اقتدار ہے تو کل زوال ہے۔ کوئی حال مستقل نہیں رہتا۔
اسی لیے عقل مند انسان وہ ہے جو اچھے وقت میں اللہ کا شکر ادا کرے اور برے وقت میں صبر کرے۔ کیوں کہ دونوں حال بدلنے والے ہیں۔
تیسری مشابہت! فنا ہونا
پانی آخرکار بہہ جاتا ہے، خشک ہو جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے۔ باقی نہیں رہتا۔
دنیا بھی فنا ہو جانے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْر
*ل(سورۃ آل عمران: ١٨٥)
ترجمۂ کنز الایمان:
ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔
جب ہر جان فنا ہونے والی ہے تو دنیا کی ہر چیز بھی فنا ہونے والی ہے۔ جو انسان دنیا کو اصل سمجھ کر اس میں کھو جاتا ہے وہ ایک دھوکے میں رہتا ہے۔
چوتھی مشابہت! فتنوں سے بچنا ناممکن
جو شخص پانی میں اترے وہ گیلا ہوئے بے غیر نہیں رہ سکتا۔ یہ ممکن نہیں۔ چاہے کتنی ہی احتیاط کرے، پانی اثر کرے گا۔
اسی طرح جو شخص دنیا میں رہتا ہے وہ دنیا کے فتنوں اور آزمائشوں سے بالکل محفوظ نہیں رہ سکتا۔ کوئی نہ کوئی آزمائش آئے گی، کوئی نہ کوئی مشکل سامنے آئے گی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ
(المسلم:2956)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔
یعنی مومن کو معلوم ہے کہ یہاں آزمائش ہے اس لیے وہ ہوشیار رہتا ہے۔
پانچویں مشابہت! اعتدال ہی اصل
پانی اگر مناسب مقدار میں ہو تو زندگی کا سبب بنتا ہے۔ فصلیں اگتی ہیں، پیاس بجھتی ہے، زندگی چلتی ہے۔ مگر وہی پانی اگر حد سے بڑھ جائے تو سیلاب بن کر سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔
دنیا بھی بالکل ایسی ہے۔ دنیا کی جتنی ضرورت ہے اتنی حاصل کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ ضروری ہے۔ کیوں کہ اس کے بے غیر زندگی نہیں چلتی۔ مگر جب دنیا کی محبت دل میں حد سے بڑھ جائے، جب دنیا کمانے کے لیے حلال حرام کی تمیز ختم ہو جائے۔ تب یہی دنیا انسان کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ
(سورۃ القصص:77)
ترجمۂ کنز الایمان:
اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔
ان پانچ مشابہتوں کو سمجھنے کے بعد ہمیں اپنی زندگی میں تین باتیں اپنانی چاہئیں۔
پہلی بات یہ کہ دنیا کو دل میں نہیں بسانا چاہیے۔ اسے ہاتھ میں رکھو دل میں نہیں۔ جو ہاتھ میں ہو وہ ضرورت کے وقت استعمال ہوتا ہے اور جو دل میں ہو وہ انسان کو غلام بنا لیتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ خوشی میں شکر اور غم میں صبر یہی مومن کا شیوہ ہے۔
تیسری بات یہ کہ آخرت کو اصل منزل سمجھنا چاہیے۔ دنیا تو بس ایک عارضی پڑاؤ ہے۔ اصل گھر آخرت ہے۔
یہ گفتگو ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ دنیا سے اتنا پیار مت کرو کہ اصل منزل بھول جاؤ۔ پانی کی طرح دنیا بھی بہنے والی، بدلنے والی اور فنا ہونے والی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اس فانی دنیا میں رہ کر باقی رہنے والی آخرت کمائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی حقیقت سمجھنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
(ماخذ: تفسیر قرطبی، جلد ١٣، صفحہ ٢٨٩)