مضامین

سیرتِ رسول عربی (ﷺ) قسط پنجم

سعدیہ خاتون
30 اگست 2026
76
0
 ہجرت کا چوتھا سال:
ہجرت کا چوتھا سال بھی چھوٹی بڑی لڑائیوں میں ہی گزرا، جن میں سے چند یہ ہیں:
سریہ ابو سلمہ:
یکم محرم الحرام، چار ہجری کو ایک شخص نے مدینہ منورہ میں یہ خبر پہنچائی کہ طلیحہ بن خویلد اور اس کا بھائی سلمہ بن خویلد، دونوں ایک لشکر لے کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کے لیے آ رہے ہیں۔ رسالت مآب ﷺ نے اس لشکر کے مقابلے کے لیے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو ڈیڑھ سو مجاہدین کے ساتھ روانہ فرمایا۔ لیکن جب کفار و مشرکین کو اس بات کا پتہ چلا کہ مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے، تو وہ اپنے اونٹوں اور بکریوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس کے بعد مسلمان مالِ غنیمت لے کر لوٹ آئے اور لڑائی کی نوبت ہی نہیں آئی۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۸۸)_
سریہ عبداللہ بن انیس:
اسی طرح محرم الحرام، چار ہجری میں سفیان بن خالد نے مدینہ منورہ پر حملہ کا قصد کیا۔ تو اس کے مقابلے کے لیے رحمتِ عالم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جنہوں نے موقع پاتے ہی سفیان بن خالد کو واصلِ جہنم کر دیا۔
_(سیرت النبی ﷺ: ج ۱، ص ۳۸۹)_
حادثۂ رجیع:
اس کا واقعہ یہ ہے کہ قبیلۂ بنی عضل اور بنی قارہ کے کچھ لوگ بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہماری قوم کے لوگوں میں اسلام کی رغبت ہو رہی ہے، لہٰذا آپ ہمارے ساتھ کچھ معلم روانہ کر دیں، تاکہ وہ دینِ اسلام کی تعلیم اور قرآنِ کریم کا درس دیں۔
ان کی درخواست پر رسولِ کائنات ﷺ نے دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کے ساتھ روانہ فرمایا، اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار مقرر فرمایا۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۸۹)_
جب قبیلۂ بنی عضل و قارہ کے لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو لے کر مقامِ رجیع پر پہنچے، جو مکہ مکرمہ اور عسفان کے درمیان واقع ہے، تو ان لوگوں نے بدعہدی کی اور قبیلۂ بنو لحیان کے دو سو آدمیوں کو، جن میں ایک سو تیر انداز تھے، ان کے پیچھے لگا دیا۔ دس صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔ تیر اندازوں نے ان سے کہا کہ آپ نیچے اتر آئیں، ہم آپ کو پناہ دیتے ہیں۔ اس پر حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم دشمنِ رسول ﷺ کی پناہ میں نہیں آتے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ رب تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوئے کہ وہ اپنے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو اس کی خبر دے دے۔ چنانچہ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ سات آدمیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے مقامِ رجیع میں شہید ہوئے۔
کفارِ قریش نے چند آدمیوں کو حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے جسمِ مبارک کا کچھ حصہ لینے کے لیے بھیجا۔ لیکن اللہ رب العزت کو یہ گوارا نہیں ہوا کہ اس کی راہ میں جان دینے والے مردِ مجاہد کے جسم کی توہین ہو۔ شانِ قدرت دیکھیے کہ شہد کی مکھیوں نے ان کی لاش کے پاس اس طرح گھیرا ڈال دیا کہ کفار و مشرکین کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔
_(سیرت النبی ﷺ: ج ۱، ص ۳۹۱)_
باقی تین اشخاص، حضرت خبیب بن عدی، حضرت زید بن دثنہ، حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہم، کفار پر بھروسہ کر کے نیچے اتر آئے تو دشمنوں نے ان کے ساتھ بدعہدی کی اور ان کے ہاتھوں کو کمان کی تانت سے باندھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے جب ان کی غداری دیکھی تو کسی طرح خود کو آزاد کیا اور ان سے مقابلہ کیا، بالآخر وہ بھی شہادت سے سرفراز ہو گئے۔
_(مدارج النبوۃ: ج ۲، ص ۱۸۷)_
لیکن حضرت زید بن دثنہ اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہما کو کفار مکہ مکرمہ لے جا کر فروخت کر دیا۔ حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر کے لڑکوں نے خریدا، کیونکہ حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے جنگِ احد میں ان کے باپ کو واصلِ جہنم کیا تھا۔ اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو امیہ کے بیٹے صفوان نے قتل کے ارادے سے خریدا۔
اس کے بعد کفار نے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو چند دن قید میں رکھا، پھر حدودِ حرم کے باہر لے جا کر سولی پر چڑھا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قاتلوں سے کچھ مہلت لے کر بہت ہی مختصر طور پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ جب کفار نے آپ رضی اللہ عنہ کو سولی پر چڑھایا تو آپ کی زبان پر یہ اشعار جاری تھے:
`فَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا`
`عَلٰی اَیِّ شِقٍّ کَانَ لِلّٰهِ مَصْرَعِیْ`
ترجمہ:جب میں مسلمان ہو کر قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں کس پہلو پر قتل کیا جاؤں گا۔
`وَذَالِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰهِ وَ اِنْ یَّشَأْ`
`یُبَارِکْ عَلٰی اَوْصَالِ شِلْوٍ مُّمَزَّعٖ`
ترجمہ: یہ سب کچھ خدا کے لیے ہے، اگر وہ چاہے گا تو میرے کٹے پھٹے جسم کے ٹکڑوں پر برکت نازل فرمائے گا۔
آپ رضی اللہ عنہ کو حارث کے لڑکے ابو سروعہ نے قتل کیا، لیکن بعد میں وہ اور اس کے دو بھائی مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۹۱، ۲۹۲)
حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کی شہادت:
 حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو امیہ کے لڑکے صفوان نے قتل کرنے کے لیے خریدا تھا۔ اس نے اپنے غلام نسطاس کو حکم دیا کہ مقامِ تنعیم میں لے جا کر قتل کر دے۔ حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا تماشا دیکھنے کے لیے تمام کفارِ قریش اکٹھا ہو گئے۔ حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو حدودِ حرم سے باہر لایا گیا۔ ابو سفیان نے کہا: اے زید! کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تم اپنے گھر میں صحیح سلامت رہو اور تمہاری جگہ ہم حضرت محمد ﷺ کی گردن ماریں؟ حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں یہ کبھی نہیں چاہوں گا کہ میں چین سے اپنے گھر میں رہوں اور حضرت محمد ﷺ کے پائے مبارک میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ ابو سفیان نے جواب سن کر کہا: جیسا میں نے حضرت محمد ﷺ کا دوست دیکھا ہے، ویسا کسی کا دوست نہیں دیکھا۔ اس کے بعد نسطاس نے حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔
_(سیرت ابن ہشام: ج ۲، ص ۱۳۴، ۱۳۵)_
بیرِ معونہ کا واقعہ:
بیرِ معونہ کا یہ واقعہ چار ہجری میں پیش آیا۔ ابو براء عامر بن مالک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ لیکن اس نے قبول نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نفرت ظاہر کی، بلکہ اس نے یہ کہا کہ آپ ہمارے ساتھ کچھ اصحاب کو بھیج دیں، تاکہ وہ ہمارے یہاں آ کر تبلیغ کریں اور مجھے امید ہے کہ وہ لوگ اسلام قبول کر لیں گے۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اہلِ نجد کی طرف سے خطرہ ہے کہ کہیں وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس پر ابو براء بن عامر نے کہا: میں انہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں، لہٰذا آپ انہیں بھیج دیں۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو روانہ فرمایا، جو "قراء" کہلاتے تھے۔
جب وہ لوگ بیرِ معونہ پر پہنچے تو حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو رسولِ خدا ﷺ کا مکتوب دے کر عامر بن طفیل عامری کے پاس بھیجا۔ جب حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے مکتوب کی طرف دیکھا بھی نہیں اور آپ پر ظلم کرنے لگا، حتیٰ کہ آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔
_(المواہب الدنیہ: ج ۱، ص ۲۹۲، ۲۹۳)_

اس کے بعد اس نے آس پاس کے قبائل کو اکٹھا کر کے ایک لشکر تیار کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیرِ معونہ پر حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کا دیر تک انتظار کرتے رہے، لیکن جب زیادہ دیر ہو گئی اور حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نہیں آئے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آگے بڑھے۔ راستے میں ان کی ملاقات عامر بن طفیل کی فوج سے ہوئی اور ان کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ کفار نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بے دردی سے شہید کر دیا۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۹۵)_
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو عامر بن طفیل نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مانی تھی، لہٰذا میں تم کو آزاد کرتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے بالوں کی چوٹی کاٹ کر آزاد کر دیا۔ جب اس کی خبر رسولِ کائنات ﷺ کو ہوئی تو اس قدر صدمہ پہنچا کہ تمام عمرِ شریف میں اتنا گہرا صدمہ نہیں پہنچا تھا۔ اور آپ ﷺ مہینہ بھر نمازِ فجر میں ان ظالموں کے حق میں بددعا کرتے رہے۔
واپسی پر حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کر دیا، جن کو رسولِ اقدس ﷺ پہلے ہی امان دے چکے تھے۔ لیکن یہ بات حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو معلوم نہیں تھی۔ جب سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ ﷺ نے یہ بات سنی تو آپ ﷺ نے ان دونوں کے خون بہا ادا کرنے کا اعلان فرمایا۔
_(سیرت النبی ﷺ: ج ۱، ص ۳۹۰، ۳۹۱)_
چار ہجری کے متفرق واقعات:
اسی سال شعبان کے مہینے میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔
اور اسی سال حضور ﷺ کی زوجۂ مطہرہ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا۔
اور اسی سال رسول اللہ ﷺ نے حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
اسی سال یہودیوں نے آپ ﷺ کے روبرو ایک یہودی کا مقدمہ پیش کیا اور آپ ﷺ نے اسے رجم کا حکم دیا۔
_(سیرت النبی ﷺ: ج ۱، ص ۳۹۴)_
اور اسی سال غزوۂ بنو نضیر بھی پیش آیا۔
اسی سال حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی۔
_(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۹۶، ۳۰۳)_

جاری ہے۔۔۔۔۔