ہجرت کا تیسرا سال:
غزوۂ اُحد:
اس سال کا سب سے بڑا پیش آنے والا واقعہ "غزوۂ اُحد" ہے۔ اُحد ایک پہاڑی کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر ہے اس پہاڑی کے دامن میں کفار و مشرکین اور مسلمانوں کے درمیاں ایک عظیم الشان معرکہ پیش آیا اسی وجہ سے یہ لڑائی "غزوۂ اُحد" کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس معرکہ کا ذکر قرآن مجید کی مختلف آیتوں میں بھی آیا ہے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ۲۵۰)
اُحد پہاڑ کی فضیلت:
رسول کریم ﷺ نے "احد پہاڑ" کے متعلق ارشاد فرمایا:
أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ
ترجمہ: اُحد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص۲٦٥)
جنگ احد کا سبب:
جب کفار و مشرکین کو "جنگ بدر" میں شکست فاش ہوئی اور ان کے سرداران قتل ہوئے۔ تو جن کے اقرباء موت کے گھاٹ اترے تھے وہ سب اپنے مقتولین کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ لوگ ابو سفیان کے پاس گئے اور کہا کہ جس قدر مال تجارت اپنے قافلے کے ساتھ لائے ہو ہم چاہتے ہیں کہ اسے جنگ میں خرچ کرو۔ تاکہ اس دفعہ بڑے پیمانے پر جنگ کا سامان اکٹھا کر کے محمد ﷺ سے اپنے مقتولین کا بدلہ لیں اور غم زدہ دلوں کو راحت پہونچائیں۔ چنانچہ ابو سفیان اور تمام سوداگران جن کا سامان تھا سب نے اس سے اتفاق کیا۔
اللہ ربّ العزت نے اس آیتِ کریمہ میں انہیں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ
(الانفال: ٣٦)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔
جب ابوسفیان مال تجارت جنگ کے لیے خرچ کرنے پر تیار ہوگیا تب تمام مشرکین رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے پر آمادہ ہوگئے۔
(سیرت ابن ہشام: ج۲، ص۸۰)
قریش کی روانگی:
جب قریش رسول کریم ﷺ سے جنگ کرنے کے لیے جمع ہوئے، تو حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما نے ایک خط لکھ کر رسول اللہ ﷺ کو اِن کے بارے میں اطلاع کر دی۔ ابو سفیان لشکر کو لے کر چلے حتی کہ مدینہ منورہ کے مقابل احد کے جانب وادی کے دامن میں اترے۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص٢٦٦)
مسلمانوں کی تیاری اور جوش:
یہ خبر سن کر رسول اللہ ﷺ نے انصار و مہاجرین کو جمع کر کے مشورہ طلب فرمایا کہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے یا شہر سے باہر نکل کر؟ عام طور پر مہاجرین اور انصار کے بڑے بزرگوں نے مشورہ دیا کہ عورتوں اور بچوں کو قلعوں میں محفوظ کر کے شہر کے اندر رہ کر کفار کا مقابلہ کیا جائے۔ منافقوں کا سردار "عبد اللہ بن ابی" بھی مجلس میں موجود تھا اس نے بھی یہی رائے دی کہ شہر میں پناہ گیر ہوکر کفار قریش کے حملوں کی مدافعت کی جائے۔ مگر چند نوجوان جوش جہاد میں آپے سے باہر ہو رہے تھے اور وہ یہ چاہتے تھے کہ میدان میں نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔
حضور پرنور سرکار مصطفیٰ ﷺ نے سب کی رائے سن لی۔ پھر آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور ہتھیار زیب تن فرما کر باہر تشریف لائے۔ اب تمام اس بات پر متفق ہوگئے کہ شہر میں رہ کر کفار قریش کے حملوں کو روکا جائے۔ مگر سرکار مدینہ راحتِ قلب و سینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پیغمبر کے لیے یہ زیبا نہیں کہ ہتھیار پہن کر اتار دے حتی تک کہ اللہ رب العزت اس کے اور دشمنوں کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ لہذا تم خدا کا نام لے کر میدان میں نکل پڑو۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ایک ہزار فوج لے کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص٢٥٣)
منافقوں کی واپسی:
جب رسول معظم ﷺ ایک ہزار مسلمانوں کے لشکر کو لے کر مقام شوط میں پہونچے جو مدینہ منورہ اور احد کے درمیان میں ہے تو "عبد اللہ بن ابی" ان میں سے ایک تہائی لوگوں کو لےکر مدینہ منورہ کی جانب واپس ہوگیا۔ یہ سب منافقین تھے۔ "عبداللہ بن ابی" نے کہا ہم لوگ خواہ مخواہ اپنے آپ کو قتل کروائیں ہم کو اس سے کیا فائدہ۔
(سیرت ابن ہشام: ج۲، ص٨٣)
اب حضور ﷺ کے لشکر میں کل سات سو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین رہ گئے جن میں کل ایک سو زرہ پوش تھے۔ اور کفار کی فوج میں تین ہزار اشرار کا لشکر تھا جن میں سات سو زرہ پوش جوان، دو سو گھوڑے، تین ہزار اونٹ اور پندرہ عورتیں تھیں۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص٢٥٥)
بچوں کا جوشِ جہاد:
رسول اللہ ﷺ نے لشکر کا معائنہ فرمایا تو بچوں کی ایک ٹولی کو ملاحظہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے بچوں کو صغر سنی کی بنا پر واپس کر دیا۔ مگر ان میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بھی تھے جو کہ ایک تیر انداز تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کو لشکر میں واپس لے لیا۔ پھر سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! حضرت رافعہ رضی اللہ عنہ کو شمولیت کی اجازت مل گئی۔ حالانکہ میں کشتی میں ان کو پچھاڑ دیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ فرمایا: اچھا تم دونوں کشتی کر کے دکھاؤ۔ جب کشتی ہوئی تو واقعی میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت رافعہ رضی اللہ عنہ کو پچھاڑ دیا جس سے ان کو بھی شمولیت کی اجازت مل گئ۔
(مدارج النبوۃ ج۲ ص ١٥٧، ١٥٨)
ماشاءاللہ! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بچوں کا شوق جہاد کا یہ عالم ہے تو پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شوق شہادت شوق جہاد کا کیا عالم ہوگا۔
احد کی گھاٹی میں پڑاؤ:
رسول اللہ ﷺ احد پہاڑ کی ایک گھاٹی میں ٹھہرے اور لشکر کی پشت احد کی طرف کر کے فرمایا کہ جب تک میں حکم نہ دوں جنگ مت کرنا۔
(سیرت ابن ہشام: ج۲، ص۸٤)
تیر اندازوں کو ہدایت:
پھر رسول معظم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو پچاس تیر اندازوں پر مقرر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی جگہ سے مت ہٹنا حتیٰ کہ میں تمہاری طرف پیغام بھیجوں۔ اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ان کو کچل ڈالا پھر بھی یہ جگہ مت چھوڑنا یہاں تک کہ میں تمہاری طرف پیغام بھیجوں۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص٢٦٩)
جنگ کی ابتداء:
مشرکوں کی صف میں سے سب سے پہلے جو جنگ کے لیے نکلا اور لشکر اسلام کی جانب تیر پھینکا وہ "ابو عامر اوسی" تھا۔ اسے "ابو عامر راہب" بھی کہتے ہیں۔ یہ اپنے پچاس آدمیوں کے ساتھ آیا اور نعرہ لگایا کہ میں "ابو عامر" ہوں۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے کہا: او فاسق! نہ تجھے سلامتی ہے اور نہ تیری آمد تجھے مبارک ہو۔ اس کے بعد یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تیر اندازی شروع کر دی۔ مسلمانوں کی جماعت نے بھی تیر اور پتھر برسائے یہاں تک کہ فاسق "ابو عامر" اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ نکلا۔
یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے ظہور نبوت سے قبل آپ کے حالات اور بعثت کی خبریں دیتا تھا۔ لیکن بعثت کے بعد اپنے قول سے مکر گیا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ و جدال کیا۔
(مدارج النبوۃ: ج۲، ص ۱٥٩، ١٦٠)
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کون ہے جو اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے؟ تو کئی حضرات اس کی طرف بڑھے لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان سے روک لیا حتی کہ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس کا حق کیا ہے؟ تو رسول کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا اسے تم دشمن کے منہ پر مارو حتیٰ کہ ٹیڑھی ہو جائے۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔
چنانچہ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کے اکڑ کر چلنے لگے۔ ان کو ایسا چلتا ہوا دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس طرح چلنے کو اللہ رب العزت پسند نہیں فرماتا لیکن اس جگہ (یعنی میدان جنگ) میں جائز ہے۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص۱٦٩)
اس جنگ میں کئی معزز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید بھی ہوئے جن کا تذکرہ ان شاءاللہ! آگے آئےگا۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت:
"وحشی" ایک حبشی غلام تھا اور اس کا مالک جبیر بن مطعم اس وحشی سے وعدہ کر چکا تھا کہ اگر وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے تو اسے آزاد کر دوں گا۔ "وحشی" ایک چٹان کے پیچھے چھپا ہوا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا۔ جیسے ہی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس کے قریب پہونچے تو اس نے ایک نیزہ پھینک کر مارا جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ناف میں جا کر لگا۔ اور پشت کے پار ہوگیا۔ اس حالت میں بھی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر پلٹے لیکن زخم کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور شہادت سے سرفراز ہوگئے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص٢٦١، ٢٦٢)
"غسیل الملائکہ" حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی شہادت:
حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ ابو سفیان کو دیکھر کر اس کی طرف پلٹے لیکن اچانک پیچھے سے شداد بن اوس نے ان کو شہید کردیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں جاؤ ان کی بیوی سے دریافت کرو کہ وہ کس حالت میں تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں غسل کی ضرورت تھی لیکن وہ جہاد کی آواز سنتے ہی گھر سے بغیر غسل کے چلے گئے۔
(سیرت ابن ہشام: ج۲، ص٩٢)
تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا:
کفار و مشرکین کی بھگدڑ اور مسلمانوں کا فاتحانہ قتل وغارت دیکھ کر وہ پچاس تیر انداز جن کو رسول اللہ ﷺ درہ کی حفاظت کے لیے مقرر کیے تھے وہ اس منظر کو دیکھ کر اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ ان کے افسر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو روکنے کی کوشش کی رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد دلایا لیکن وہ نہ مانے اپنی جگہ سے ہٹ کر مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہوگئے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو کہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ درہ کو خالی دیکھا تو اپنی فوج کو درہ کے راستے سے لاکر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ سب شہید ہوگئے۔ اب کفار کی فوج کے لیے راستہ بالکل صاف تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے زبردست حملہ کیا۔ مسلمان مال غنیمت لوٹنے میں مصروف تھے پیچھے مڑ کر دیکھا تو تلواریں برس رہی تھیں۔ کفار و مشرکین نے مسلمانوں کو آگے اور پیچھے دونوں طرف سے گھیر لیا۔ ان کے درمیان مسلمان چکی کے دو پاٹوں کی طرح پس رہے تھے۔ مسلمان اتنے بد حواس ہو ہوکر لڑ رہے تھے کہ خود ایک دوسرے کی تلوار سے قتل ہوئے۔ چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد خود ایک مسلمان کی تلوار سے شہید ہوئے۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص٢٦٤، ٢٦٥)
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت:
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جن کو رسول خدا ﷺ نے اپنا نشان عطا فرمایا تھا۔ رسول کریم ﷺ کے ساتھ مل کر اس طرح جہاد کیا کہ آخر میں وہ شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ ان کو ابن قمیۂ نے شہید کیا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آقائے نامدار ﷺ نے پرچم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو عطا فرمایا۔
(سیرت ابن ہشام: ج۲، ص٩١)
رسول کائنات ﷺ کا چہرۂ مبارک پر زخم:
کفار کا درہ کے راستے حملہ کرنے سے مسلمانوں کا لشکر درہم برہم ہوگیا، اور یہ دن مسلمانوں کے لیے آزمائش کا دن تھا۔ جن کو خدا نے چاہا وہ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ حتیٰ کہ دشمن کی فوج کا سرکار مدینہ ﷺ تک گزر ہوا۔ تو عتبہ بن ابی وقاص نے ایک پتھر اٹھا کر جانِ کائنات ﷺ کے چہرۂ انور پر مارا جس سے آپ ﷺ کے چار دانت شہید ہوگئے۔ اور ہونٹ اور سر مبارک بھی زخمی ہوگیا۔
اس وقت آقائے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص کیسے فلاح پا سکتے ہیں جو اپنے نبی ﷺ کے چہرۂ اقدس کو خون آلودہ کرے حالانکہ ان کا نبی ﷺ ان کو رب تبارک و تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔
(ابن ہشام: ج۲، ص٩٣)
جنگ میں خواتین اسلام کے کارنامے:
جنگ احد میں مردوں کی طرح عورتوں نے بھی بہت ہی جوش و خروش سے حصہ لیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت بی بی ام سلیم رضی اللہ عنہما کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خواتین مشک میں پانی بھر کر لاتیں اور مجاہدین اور خصوصاً زخمیوں کو پانی پلاتیں۔ اسی طرح طرح حضرت ام سلیط رضی اللہ عنہا جو کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ ہیں وہ بھی پانی بھر کر لاتی اور مجاہدین اسلام کو پانی پلاتی تھیں۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ٢٧٨، ٢٧٩)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا حوصلہ:
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا یہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی جان اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بہن اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ یہ جنگ کے حالات کو سن کر مدینہ منورہ سے نکلیں حضور ﷺ نے ان کے صاحبزادے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا کہ یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش مبارک دیکھنے نہ پائیں۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول خدا ﷺ کا فرمان سنایا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بولیں میں اپنے بھائی کا ماجرا سن چکی ہوں لیکن خدا کی راہ میں یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔ اس پر سرکار مدینہ راحتِ قلب و سینہ ﷺ نے اجازت دے دی۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا لاش پر گئیں دیکھا عزیز بھائی کے جسم کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ {انا للہ و انا الیہ رٰجعون} پڑھا اور مغفرت کی دعا مانگی۔
(سیرت النبی ﷺ: ج۱، ص٣٨٤)
ایک انصاریہ عورت کا صبر اور محبت رسول ﷺ:
ایک انصاریہ عورت کے بھائی، شوہر اور باپ تینوں شہید ہوگئے اور لوگ باری باری ان کو شہادت کی خبر دیتے رہے لیکن وہ ہر بار یہی پوچھتی رہیں کہ جانِ جاناں ﷺ کیسے ہیں؟ جب لوگوں نے بتایا کہ الحمدللہ! وہ ٹھیک ہیں تو ان کی زبان سے بے اختیار اس شعر کا مضمون نکل پڑا کہ
تسلی ہے پناہ بے کساں زندہ سلامت ہیں
کوئی پرواہ نہیں سارا جہاں زندہ سلامت ہیں
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۲۸۱)
شہداء اور مقتولین کی تعداد:
"غزوۂ احد" میں جو مسلمان شہید ہوئے ان کی تعداد ستر ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ پینسٹھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے جن میں چار مہاجرین تھے۔
اور ابن مندہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں احد کے دن چونسٹھ انصار اور چھ مہاجرین شہادت سے سرفراز ہوئے۔
اور مشرکین میں سے تئیس افراد واصل جہنم ہوئے۔ ان میں سے ایک کو خود آقائے دو جہاں ﷺ نے واصل جہنم فرمایا۔
(المواہب الدنیہ: ج۱، ص٢٨٠)
۳ ہجری کے متفرق واقعات:
اسی سال رمضان المبارک کی پندرہویں تاریخ کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔
اسی سال سرکار مصطفیٰ ﷺ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا جو غزوۂ بدر کے زمانہ میں بیوہ ہوگئیں تھیں۔
اور اسی سال رسول اللہ ﷺ کی پیاری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح منعقد ہوا۔
(سیرت النبی ﷺ: ج۱، ص۳۸۷)
اس اسی سال میراث کے احکام و قوانین نازل ہوئے۔
اور اب تک مشرک عورتوں کا نکاح مسلمانوں سے جائز تھا۔ مگر تین ہجری میں اس کی حرمت نازل ہوگئ اور ہمیشہ کے لیے مشرک عورتوں کا مسلمانوں سے نکاح حرام ہوگیا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص۲۸۷)
اور اسی سال یعنی ۳ ہجری میں کعب بن اشرف یہودی کو رسول خدا ﷺ کے حکم سے حضرت محمد بن مسلمہ، حضرت ابو نائلہ، حضرت عباد بن بشر، حضرت حارث بن اوس اور حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہم نے اس یہودی کے گھر میں جاکر اسے واصل نار پہونچایا۔
اور اسی سال غزوۂ غطفان بھی پیش آیا۔
(سیرتِ مصطفیٰ ﷺ: ص ٢٨٣، ٢٨٥)
جاری ہے۔۔۔۔!