قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
{ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًا }
ترجمہ کنز الایمان: بیشک تمہیں رسول الله کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ الله اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور الله کو بہت یاد کرے۔
(سورۃ الاحزاب: 21)
حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر پہلو ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ عبادت میں سب سے بڑھ کر، اخلاق میں سب سے اعلیٰ، معاملات میں سب سے پاکیزہ، وعدے کے سب سے سچے اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں سب سے زیادہ مہربان تھے۔
آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ کامیاب انسان وہ نہیں جو صرف دنیاوی اعتبار سے بڑا ہو، بلکہ حقیقی کامیابی اس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار اور مخلوق کے لیے نفع بخش ہو۔ آپ ﷺ یتیموں سے شفقت فرماتے، غریبوں کا خیال رکھتے، بیماروں کی عیادت کرتے اور کمزوروں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے۔
آپ ﷺ کی سیرت طیبہ صبر و استقامت کا بھی عظیم نمونہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف دی گئیں، مگر آپ ﷺ نے دین کی دعوت کا کام نہیں چھوڑا۔ طائف کے سفر میں شدید اذیت کے باوجود آپ ﷺ نے اپنی امت اور انسانیت کے لیے خیر ہی چاہی۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات راستہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ ایمان اور کردار کو مضبوط کرنے کے لیے آتی ہیں۔
آپ ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو محبت، بھائی چارے، عدل اور تقویٰ کا درس دیا۔ مدینہ منورہ میں ایک ایسا معاشرہ قائم فرمایا جس کی بنیاد ایمان، اخوت، انصاف اور رحم و کرم پر تھی۔
آج اگر ہم اپنی زندگی میں سکون، برکت اور کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں سیرت مصطفیٰ ﷺ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ہوگا۔ ہماری گفتگو میں سچائی، ہمارے معاملات میں دیانت، ہمارے دل میں رحم، ہماری عبادت میں اخلاص اور ہمارے کردار میں سنت رسول ﷺ کی جھلک ہونی چاہیے۔
محض زبان سے محبت رسول ﷺ کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت کو اپنائیں، آپ ﷺ کے اخلاق کو اختیار کریں اور آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرت مصطفیٰ ﷺ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے اخلاق و کردار کو سنت نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
_____________________________
تاریخ: ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۴۴۸ھ
دن: بدھ، ۲۶ اگست ۲۰۲۶ء
از قلم: عظمیٰ فاطمہ بنت محمد میاں خان