بعض اوقات انسان اپنی ظاہری اصلاح پر اس قدر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے باطن کی کمزوریوں کا احساس ہی نہیں رہتا۔ لباس سنت کے مطابق ہے، ظاہری حلیہ دینی ہے، مگر زبان سے دوسروں کی تحقیر، دل میں بدگمانی، طبیعت میں تکبر، معاملات میں سختی اور لوگوں کی عزتِ نفس کا خیال نہ رکھنا،یہ وہ خامیاں ہیں جن کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔
اسی طرح عورت کے لیے پردہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا حکم اور عظیم عبادت ہے، مگر پردے کے ساتھ زبان، نگاہ، دل، اخلاق، معاملات اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ پردہ صرف جسم کا نہیں، بلکہ نگاہ کا بھی ہے، زبان کا بھی ہے اور دل کا بھی۔
ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری عبادتوں نے ہمارے اخلاق میں کتنا حسن پیدا کیا؟ ہماری نماز نے ہمیں برائی سے کتنا روکا؟ ہماری تلاوت نے ہمارے دل کو کتنا نرم کیا؟ ہمارے ذکر نے ہمیں کتنا عاجز بنایا؟ اور ہماری دینی معلومات نے ہمیں دوسروں کے لیے کتنا نرم مزاج بنایا؟
یاد رکھیں! کسی مسلمان کی عزت پامال کرکے نیکی کا دعویٰ خوبصورت نہیں لگتا۔
کسی کے دل کو توڑ کر عبادت پر فخر کرنا مناسب نہیں۔
لوگوں کی خامیاں تلاش کرتے رہنا اور اپنی خامیوں سے غافل رہنا اصلاح نہیں، خود فریبی ہے۔
زبان بہت بڑی نعمت بھی ہے اور بہت بڑی آزمائش بھی۔ ایک نرم جملہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے سکتا ہے، جبکہ ایک تلخ جملہ برسوں کی محبت ختم کر سکتا ہے۔ اس لیے بولنے سے پہلے سوچیں کہ ہماری بات کسی کے دل کو تو نہیں توڑ رہی؟ کسی کی عزت مجروح تو نہیں ہو رہی؟ کسی مسلمان کے بارے میں بلاوجہ بدگمانی تو نہیں کی جا رہی؟
اسی طرح دل کی بدگمانی بھی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ہر بات کا برا مطلب نکالنا، بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانا، لوگوں کے ارادوں پر حکم لگانا اور ان کے بارے میں منفی گمان رکھنا دل کی ایسی بیماریاں ہیں جن سے انسان کو خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی بچانا چاہیے۔
قرآنِ کریم ہمیں تنبیہ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ-
ترجمہ کنز الایمان :
اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
(سورۃ الحجرات: 12)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
( صحیح البخاری، کتاب الإيمان، حدیث نمبر 10
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث نمبر 40 )
اس لیے دینداری کا حسن یہ ہے کہ انسان کی زبان سے خیر نکلے، ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، دل میں مسلمانوں کے لیے خیرخواہی ہو اور معاملات میں انصاف و دیانت ہو۔
ہم دوسروں کے ظاہر کو دیکھ کر ان کے بارے میں فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں۔ کسی کے لباس، حلیے یا ظاہری دینداری کو دیکھ کر خود کو بہتر اور اسے کمتر سمجھنا درست نہیں۔ اصل مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے، اور وہی دلوں کے حال کو سب سے بہتر جانتا ہے۔
اپنے ظاہر کو سنت سے سجائیں، مگر اپنے باطن کو بھی اخلاص سے سنواریں۔
اپنی زبان کو ذکر سے آباد کریں، مگر اسے کسی کی دل آزاری سے بھی بچائیں۔
اپنی نگاہ کو پاک رکھیں، مگر اپنے دل کو بھی حسد اور بغض سے پاک کریں۔
عبادت کریں، مگر عبادت کے ساتھ عاجزی بھی اختیار کریں۔
حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں دیندار سمجھیں؛ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نزدیک نیک بندوں میں شامل فرما دے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری و باطنی دونوں طرح کی پاکیزگی عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو کینہ، حسد، تکبر اور بدگمانی سے پاک فرمائے، ہماری زبان کو غیبت، چغلی، جھوٹ اور دل آزاری سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں ایسا مسلمان بنائے جس سے دوسرے مسلمان بھی امن و محبت محسوس کریں۔
آمین یا رب العالمین
____________________
تاریخ: ۷ ربیع الاول شریف ۱۴۴۸ھ
دن: جمعرات، ۲۰ اگست ۲۰۲۶ء
از قلم: بنت محمد میاں خان