مضامین

قلم امانت ہے

بنت  رمضان
18 اگست 2026
97
2
  • کہا جاتا ہے: دنیا وی معاملات سین اور قاف سے چلتے ہیں سین سے مراد سیف یعنی تلوار اور  قاف سے مراد "قلم " سیف و قلم کا حق فرزندانِ اسلام نے خوب ادا کیا اور کرتے آر ہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں کتنے ہزاروں مصنفین علمائے کرام ہیں جو آج بھی "قلم "کے ذریعے دین کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قلم ہماری طاقت ہے دنیا بھر میں جو کتابیں لکھی جاتی ہیں ان کو پڑھ کر نہ جانے کتنے لوگوں سیدھی راہ پکڑی ہے کتنے، ہی مرجھائے دل تازہ ہوۓ ہیں  قلم ہمارے لیے  اللہ کریم کی عطا کردہ نعمتوں میں سےایک بہت بڑی نعمت ہے۔
  •  سوچیۓ !  اگر قلم نہ ہوتا تو یہ علم محفوظ نہ ہوتا آج اس قلم ہی کی بدولت ہمارے پاس قرآن و حدیث پہنچے ہیں ہم میں سے کوئی بھی حدیث نہیں حاصل کر پاتے اگر قلم نہ ہوتا قلم ہماری طاقت ہے قلم ہماری امانت ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال" اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ" ہیں  جنہوں نے ایک نہیں بلکہ ایک ہزار سے بھی زیادہ کتابیں  تصنیف فرما ئی ،   اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے 50 ہزار سے زائد علوم و فنون پر کتابیں تحریر  فرمائی  ۔ قلم کی بہت زیادہ اہمیت ہے  اس کا ذکر قرآن  و حدیث میں بھی موجود ہے ۔ اللہ کریم  ارشاد فرماتا ہے:   
  • اَلَّذی علم بالقلم (4) علم الانسان ما لم یعلم
  •  (سورہ علق5 )
  •  ترجمہ کنزالایمان    :  جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو جو نہ جانتا تھا ۔
  • یعنی وہ رب کریم جس نے ہمیں لکھنا سکھایا جس کے ذریعے ہم غائب امور کی پہچان کرتے ہیں ۔ شیطان ہر جگہ اج انسان کو گمراہ کرنے میں لگا رہتا ہے وہی قلم ہماری طاقت بن کر گمراہی کو مٹاتا ہے قلم صرف کاغذ پر سیاہی نہیں چھوڑتا بلکہ لوگوں کی تقدیروں کو بدل دیتا ہے۔
  • قلم کی طاقت کبھی کمزور نہیں پڑتی جب وہ میدان میں اترتا ہے تو تلوار سے بھی زیادہ تیز چلتا ہے  قلم ہماری شان ہے اس کا ادب بھی  ہم پر لازم ہے۔   کیونکہ  اسی کے ذریعہ علم حاصل کیا جاتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کیا وہ قلم ہے، پھر اس سے فرمایا: لکھ! قلم نے عرض کیا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قیامت تک ہونے والی ہر چیز کی تقدیر لکھ ڈال (جامع ترمذی: 2155)۔
  • قلم ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے قلم ہماری امانت ہے ۔