ماں وہ عظیم الشان ہستی ہے جس کا مرتبہ اللہ تعالیٰ نے بہت بلند کیا ہے۔ میری ماں کی ایک خاص خصلت مجھے بہت پسند ہے — وہ ہمیشہ یہ سکھاتی ہیں کہ جو جیسا کرے اس کے ساتھ ویسا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی تمہارے ساتھ برا کرے تو اس کے ساتھ برا نہیں کرنا، اور اگر کوئی بھلا کرے تو اس کا احسان کبھی مت بھولو۔
ایک مرتبہ کی بات ہے، میرے گھر کے قریب آگ لگ گئی۔ اس مکان میں ایک بیوہ عورت اور اس کا ننھا بچہ رہتا تھا۔ جب آگ لگی تو اس کی ماں کسی کام سے باہر تھی۔ پورے محلے والے جمع تھے لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ بچے کو بچانے جائے۔ جب ماں نے دیکھا تو لوگوں سے مدد مانگی، لیکن کوئی آگے نہ آیا۔ پھر اس عورت نے خود ہمت کی، آگ میں گھس گئی اور اپنے بچے کو واپس لے آئی۔ اس کے ہاتھ پیر جل گئے تھے لیکن بچے کو خراش تک نہیں آنے دی۔ جب میں نے یہ واقعہ سنا تو دل نے کہا، اس دنیا میں ایک ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی اولاد سے بے پناہ محبت رکھتی ہے۔
اگر اس دنیا میں ماں نہ ہوتی تو ہر کسی کی زندگی ایک ویران صحرا کے مانند ہوتی۔ اگر ماں کی ممتا اور اہمیت جاننی ہو تو کسی یتیم سے پوچھو جس کے پاس ماں نہ ہو۔
آئیے! آج ہم عہد کریں کہ کبھی اپنے والدین کو تکلیف نہیں دیں گے، کبھی ان سے اونچی آواز میں بات نہیں کریں گے۔ ابھی شاید ان کی قدر کا پوری طرح احساس نہ ہو، لیکن خدا نخواستہ جب وہ نہ ہوں تو ان کی کمی کا احساس ہوتا ہے، ان کا ڈانٹنا، پیار کرنا سب یاد آتا ہے۔ اس وقت ہم سوچتے ہیں، کاش ہم نے ان کی قدر کی ہوتی۔ لیکن تب پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
امیری اور غریبی پیسوں سے نہیں ہوتی، محل وہ گھر نہیں ہوتا جس میں امیر لوگ اتراتے ہوں، بلکہ تاج محل تو وہ ہے جس کے دروازے پر ماں باپ کی جوتیاں اتری ہوں۔
اس لیے اپنے ماں باپ کی تعظیم و تکریم کریں اور جہاں تک ہو سکے انہیں خوش رکھیں۔
اے اللہ! جس طرح تو باغات میں پودوں کو ہریالی دیتا ہے، اسی طرح ہر گھر کے پھولوں کو مت چھیننا، ان کے گھروں میں ہمیشہ ہریالی رکھنا۔ اے ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کو جوڑنے والے! تو سب کے والدین کو سلامت رکھ اور ان کی عمریں طویل فرما۔ آمین!