مضامین

محاسبہ اپنے گریبان میں جھانکنےکا سفر!

بنت محمد حنیف
11 ستمبر 2026
51
0
محاسبہ کریں! !!    ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانکیں!  
کیونکہ ہم آج دنیا اور اس کی رنگینیوں میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ خود سے ہم کلام ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ہماری نگاہیں ہر وقت دوسروں کو دیکھنے میں مصروف ہیں؛ کسی کی شکل و صورت، کسی کا لباس، کسی کی دولت، کسی کی کمی، کسی کی خوبی، حتیٰ کہ کسی کی نیکی اور گناہ بھی ہماری گفتگو کا موضوع بن جاتے ہیں۔
دوسروں پر تبصرہ کرنے بیٹھیں تو وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا، لیکن جب بات اپنے گریبان میں جھانکنے کی آئے تو ہمارے پاس چند لمحے بھی نہیں ہوتے۔
مگر ذرا ٹھہریں!
کیا کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم کیا ہیں؟ کیسے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ اور کیوں کر رہے ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں، عزیزو! جنہیں ہم دوسروں کے لیے تو بڑی آسانی سے استعمال کرتے ہیں، مگر اپنی ذات کے سامنے رکھتے ہوئے نہ جانے کیوں گھبرا جاتے ہیں۔
حالانکہ اگر ہم روزانہ صرف چند لمحے اپنے لیے نکالیں اور ان سوالات کے جواب خود سے تلاش کریں، تو شاید ہمیں اپنی حقیقت کا اندازہ ہو جائے۔
ذرا سوچیں!!!  اس بارے میں بھی کہ آج میرا دن کیسا گزرا؟میں نے کیا کیا؟جو کیا، کیوں کیا؟کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کسی کا حق تو نہیں مارا؟کسی کے بارے میں ناحق بات تو نہیں کی؟اور کیا آج میں نے اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بھی کچھ کیا؟
یقین جانیں!!! اگر انسان سچے دل سے اپنا محاسبہ کرے تو دل کے کسی کونے میں ندامت کا چراغ ضرور روشن ہوتا ہے۔ اور جب اس چراغ کی روشنی میں انسان اپنے اعمال کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی بہت سی ایسی حقیقتیں نظر آتی ہیں جن سے وہ دوسروں پر نظر رکھنے کی  وجہ سےغافل رہتا ہے۔ 
پھر یہی ندامت انسان کو اپنے رب کے دربار تک لے جاتی ہے۔ جہاں وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے، آنسو بہاتا ہے، توبہ کرتا ہے اور اپنے رب سے معافی مانگتا ہے۔
محاسبہ کوئی نیا عمل نہیں
اپنی ذات پر نظرِ ثانی کرنا اور اپنے گریبان میں جھانکنا کوئی غلط یا نیا کام نہیں، بلکہ یہ ہمارے اسلاف اور بزرگانِ دین کا طریقہ رہا ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی  محاسبۂ نفس فرمایا کرتے اور اس کے متعلق آپ سے منسوب ہے کہ آپ نے فرمایا:اپنا محاسبہ خود کر لو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔
یہ  جملہ اگر چہ مختصر سا ہےمگر اپنے اندر زندگی بدل دینے والا پیغام رکھتا ہے۔
آج ہم دوسروں کے اعمال کا حساب رکھنے میں تو بہت ماہر ہو گئے ہیں، لیکن اگر کوئی ہم سے ہمارے اپنے اعمال کا حساب مانگ لے تو شاید ہمارے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہ ہو۔
خود احتسابی انسان کو اس کی اپنی حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ اپنی نیکیوں پر اسے غرور کے بجائے اپنے رب کا شکر ادا کرنا سکھاتی ہے، اور اپنے گناہوں پر ندامت کے ساتھ توبہ کی طرف لے جاتی ہے۔
محاسبہ دراصل ایک ایسا لمحہ ہے، جہاں دنیا کی آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے دل کی آواز سنتا ہے۔
اس لیے روزانہ کچھ وقت اپنے لیے ضرور نکالیں۔
لوگوں کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اپنے عیب دیکھیں۔
دوسروں کے اعمال پر گفتگو کرنے سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ ضرور لیں۔اور دوسروں کے گریبان میں جھانکنے سے پہلے ایک مرتبہ اپنے گریبان میں بھی ضرور جھانکیں۔
آخرِ کلام فقط اتنا ہے کہ خوفِ خدا اور قربِ خدا دونوں ہی عظیم ترین دولتیں ہیں، اور محاسبۂ نفس ان دونوں دولتوں  کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
آئیے! آج سے  ہم خود سے ایک وعدہ کریں کہ ہم دوسروں کا حساب رکھنے کے بجائے اپنا حساب رکھیں گے۔ کیونکہ ایک دن وہ وقت ضرور آنا ہے جب ہمیں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
اللہ کریم ہمیں اپنے گناہوں پر ندامت، خوفِ خدا، قربِ خدا اور اپنی رضا نصیب فرمائے۔آمین۔
(نوٹ)اپنے مضامین جمع کرنے کے لیے رابطہ کریں: 
9005224744