مضامین

وائرل کلچر اور ہماری اخلاقی ذمہ داریاں

اے۔ایس۔رضویہؔ
14 اگست 2026
79
0
آج کل سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کی خواہش بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی ویڈیو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے اور اسے زیادہ پسند کیا جائے۔ اسی خواہش میں بعض لوگ چند لمحوں کی شہرت حاصل کرنے کے لیے قانون، اخلاق اور اچھے آداب تک کو بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ چند منٹ کی شہرت اگر غلط طریقے سے حاصل کی جائے تو وہ زندگی بھر کی شرمندگی اور پچھتاوے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
حال ہی میں سنگاپور میں ایک فرانسیسی نوجوان نے وائرل ہونے کی دھن میں عوامی قوانین کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ہر اس شخص کے لیے ایک سبق ہے جو سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے قانون توڑنے یا ایسے کام کرنے سے دریغ نہیں کرتا جن سے دوسروں کو تکلیف پہنچے۔ چند لمحوں کی شہرت کے لیے اٹھایا گیا ایک غلط قدم انسان کو قانونی کارروائی، مالی نقصان اور بدنامی سے دوچار کر سکتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف ویڈیوز بنانے والوں کا نہیں، بلکہ انہیں دیکھنے، پسند کرنے اور دوسروں تک پہنچانے والوں کا بھی ہے۔ اسلام ہمیں ہر ایسے کام سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے جو گناہ، بے حیائی یا معاشرے میں خرابی کا سبب بنے۔ جب ہم فضول، غیر اخلاقی یا نقصان دہ ویڈیوز کو دیکھتے، پسند کرتے یا دوسروں تک پہنچاتے ہیں تو ہم بھی کسی نہ کسی درجے میں اس برائی کو پھیلانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ قرآنِ کریم ہمیں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مواد سے خود بھی بچے اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دے۔ اگر ہم منفی اور بے مقصد ویڈیوز کی بجائے علم، دین، اخلاق اور اصلاحِ معاشرہ پر مبنی مواد کو فروغ دیں، تو سوشل میڈیا واقعی دعوتِ خیر اور بھلائی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایسی ویڈیوز اور تحریریں عام کی جائیں جو علم، اخلاق، اچھے کردار اور معاشرے کی بھلائی کا ذریعہ بنیں۔ ہر صارف کو چاہیے کہ وہ قانون، اخلاق اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور کسی بھی ایسے عمل سے بچے جس سے معاشرے میں بے چینی یا نقصان پیدا ہو۔
مختصر یہ کہ اصل عزت اور کامیابی اچھی شہرت، اعلیٰ کردار اور مفید خدمات میں ہے۔ جو شہرت قانون شکنی، اخلاقی گراوٹ یا دوسروں کو تکلیف پہنچا کر حاصل کی جائے، وہ وقتی ضرور ہو سکتی ہے، لیکن انجامِ کار عزت نہیں بلکہ رسوائی ہی مقدر بنتی ہے۔