بور ہو رہے ہیں تو کیا کریں؟
بور کون ہوتا ہے؟
انسان بور نہیں ہوتا، انسان کا دل بور ہوتا ہے۔ جب دل کو مزا نہیں آتا، لطف نہیں ملتا، تو اس وقت دل بور ہوتا ہے۔ اور یہ بوریت کہاں سے آتی ہے؟ رات بھر جاگو، اور صبح جب اللہ کی رحمت اترتی رہے اور تم سوئے رہو، تو اس کے بعد دل مرجھا نہیں جائے گا تو کیا ہوگا؟ پھر ہم سوچتے ہیں کہ تھوڑا ٹائم پاس کر لیں، تھوڑا گانا سن لیں، تھوڑی مووی دیکھ لیں۔
تو خبردار! دل کی غذا یہ نہیں ہے۔ جو کچھ بھی آپ کریں گے، اس سے تھوڑے وقت کے لیے دل کو سکون ملے گا، اس کے بعد پھر وہی حال ہوگا۔ تو پھر دل جو مرجھا رہا ہے، دل جو بور ہو رہا ہے، اسے جگانے کا طریقہ کیا ہے؟
تو اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ
(الرعد، 28)
ترجمہ کنزالایمان: خبردار! اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت کی رحمت، فضل اور احسان کو یاد کر کے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ پریشان آدمی جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل کو قرار آنا شروع ہو جاتا ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے ایک مرید نے عرض کی: کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دل کی رغبت کے بغیر میری زبان سے اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہ بھی تو شکر کا مقام ہے کہ تمہارے ایک عضو کو اللہ نے ذکر کی توفیق بخشی ہے۔
جس کا دل اللہ تعالیٰ کے ذکر میں نہیں لگتا، اسے بعض اوقات شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ جب تیرا دل ذکر میں نہیں لگتا تو خاموش ہو جا، کہ ایسا ذکر کرنا بے ادبی ہے۔ اس شیطانی وسوسے سے ہم سب کو بچنا چاہیے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس وسوسے کا جواب دینے والے تین قسم کے ہیں:
پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو ایسے موقع پر شیطان سے کہتے ہیں: خوب توجہ دلائی، اب میں تجھے بیزار کرنے کے لیے دل کو بھی حاضر کرتا ہوں۔ اس طرح شیطان کے زخموں پر نمک پاشی ہو جاتی ہے۔
دوسرے وہ احمق ہیں جو شیطان سے کہتے ہیں: تو نے ٹھیک کہا، جب دل ہی حاضر نہیں تو زبان ہلانے سے کیا فائدہ! اور وہ یوں اللہ کے ذکر سے خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہ نادان سمجھتے ہیں کہ ہم نے عقلمندی کا کام کیا ہے، حالانکہ ان لوگوں نے شیطان کو اپنا ہمدرد سمجھ کر دھوکا کھایا ہے۔
تیسرے وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں: اگرچہ ہم دل کو حاضر نہیں کر سکتے، مگر پھر بھی زبان کو اللہ کے ذکر میں مصروف رکھنا خاموش رہنے سے بہتر ہے، اگرچہ دل لگا کر ذکر کرنا اس طرح کے ذکر سے کہیں بہتر ہے۔ (کیمیائے سعادت)
غرض یہ کہ بوریت اور دل کی بے قراری کا حقیقی علاج نہ گانا ہے، نہ فلم، نہ وقت گزاری کے دیگر مشاغل۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے خود اعلان فرما دیا:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ۔
اور اگر کبھی ذکر کرتے وقت دل پوری طرح حاضر نہ ہو تو مایوس ہو کر خاموش نہیں ہو جانا چاہیے، بلکہ زبان کو ذکر میں مصروف رکھنا ہی بہتر ہے، کیونکہ یہی ایک قدم آگے چل کر دل کی حضوری کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ذکر سے دلوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔