مضامین

پردے میں نمائش

بنت اسلم برکاتی
01 ستمبر 2026
81
2
جی جی! آپ نے بلکل صحیح پڑھا۔ آپ سوچ رہی ہوں گی کہ پردے میں نمائش کیسے ہوتی ہے؟ تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کے یہ کس طرح ہوتی ہے اور کرنے والیاں کون ہیں ؟
جی!  تو یہ نمائش ہوتی ہے موبائل کے ذریعے ،واٹس ایپ سٹیٹس پر، انسٹاگرام سٹوری پر، فیسبک سٹوری پر اور اسی طرح باقی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر۔ 
آئیے اب اس نمائش کا طریقہ جانتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو شاندار پھوٹوز  لی جاتی ہیں اور وہ بھی مکمل نہیں؛  بل کہ کبھی ایک انگلی کی، کبھی ایک آنکھ کی، کبھی ایک پیر کی، کبھی نقاب میں پیچھے سے اور کبھی مہندی لگے ہوئے ہاتھوں کی وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد ان پھوٹوز کو بہترین طریقے سے ایڈٹ کرنے کے بعد نمائش کے لیے سٹیٹس اور سٹوری پر اپلوڈ کر دیا جاتا ہے۔ اور یہ سب کرنے والیاں  دنیا دار لڑکیاں یا خواتین نکے ساتھ ساتھ  دین سے تعلق رکھنے والیاں، دین کا علم سیکھنے سکھانے والیاں اور سات سے آٹھ سال دین پڑھنے والیاں ہوتی ہیں الا ما شاءاللہ تعالیٰ!
افسوس صد افسوس!!! یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اس کو چھوٹ نہیں کہ سکتے ہیں۔ یہی کام اگر دنیادار لڑکیاں یا خواتین کریں تو بات کچھ سمجھ بھی آتی ہے کہ دین کا علم نہ ہونے اور دین سے دوری کے سبب ایسا کرتی ہیں۔ پر بات تو ان کی ہو رہی ہے جنہوں نے دین پڑھا ہے، شریعت کے احکام سے واقفیت رکھتی ہیں۔
ایک تو ویسے بھی لوگ اپنی بچیوں کو دین نہیں پڑھاتے ہیں اور اوپر سے پڑھی لکھی دینداروں کی ان حرکتوں سے لوگ اور بھی زیادہ بد زن ہوتے ہیں۔ کیا ان پڑھی لکھی دین داروں کے کانٹیکٹ میں کوئی دنیادار لڑکی یا خواتین نہ ہوگی؟ کیا وہ ایسے اسٹیٹ اور سٹوری کو نہیں دیکھتی ہوں گی؟
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان سب کا ان دنیادروں پر کیا اثر ہوتا ہوگا؟ کیا وہ سب یہی سوچتی ہوں گیں کہ جب دین پڑھنے پڑھانے والیاں بھی ایسا کرتی ہیں تو ہم میں اور ان میں تو معمولی سا ہی فرق ہوا اور وہ یہ کہ ہم یہی کام بغیر حجاب یا نقاب کے کرتے ہیں اور یہ سبھی حجاب اور نقاب میں کرتی ہیں۔
حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے: 
”مِنْ حُسْنِ اِسْلامِ الْمَرْ ءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔“
ترجمہ :- کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ بے کار باتیں چھوڑ دے ۔
(مسند امام احمد ،ج 3،ص259،حدیث: 1737)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں : یعنی کامل مسلمان وہ ہے جو ایسے کام، ایسی حرکات و سکنات سے بچے جو اسے دین یا دنیا میں مفید نہ ہو یا آخرت میں ۔ سبحان اللہ ! ان دو کلموں میں دونوں جہاں کی بھلائی وابستہ ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح ،ج 6،ص465)
غور کریں ! اے اسلام کی مقدس شہزادیوں!! کہ آپ کی ان حرکتوں سے دین یا دنیا کےکون سے فوائد آپ کو حاصل ہوتے ہیں؟ بس کچھ لائکس، کچھ تعریفیں اور کچھ کمنٹس۔۔ اللہ اکبر کبیرا !!! کیا ایک مومنہ کی بس یہی اوقات ہے ؟
یہ تحریر لکھنے کا مقصد بس یہی ہے کہ خدارا!!! آپ ان حرکتوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوششیں کریں۔ رب تبارک و تعالیٰ ہم سبھی کو لا یعنی کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے اور اپنے حبیب حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا والے کاموں کو کرنے کی خوب خوب توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین و نبی الملاحم صلی اللہ علیہ وسلم!
11/ ربیع الثانی/1446
15/ اکتوبر/2024