انسانیت وہ صفت ہے جو انسان کو تمام مخلوقات میں ممتاز کرتی ہے، جو ہمیں رحم، محبت، شفقت، انصاف، ہمدردی اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیتی ہے۔ انسانیت کا مطلب ہے انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک، رحم دلی، ہمدردی، محبت، انصاف اور ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ انسانیت وہ اعلیٰ اخلاقی وصف ہے جو کسی دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتا ہے، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتا ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا، بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اور سب کے ساتھ عزت سے پیش آتا ہے۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے، میں اپنے تایا کے گھر جا رہی تھی کہ راستے میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میری آنکھوں میں آنسو لے آئے۔ بس میں ایک عورت چڑھی جس کے پاس کسی مجبوری کے باعث پیسے نہیں تھے، اور ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔ میں اسے دیکھ ہی رہی تھی کہ کنڈیکٹر ٹکٹ کے پیسے لینے آ گیا۔ سب نے اپنے اپنے ٹکٹ لیے، میں نے بھی لیا۔ جب وہ اس عورت کے پاس پہنچا اور پیسے مانگے تو اس نے بڑی منتیں کیں، لیکن کنڈیکٹر کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس نے اس عورت کو چلتی بس سے دھکا دے کر اتار دیا۔ اس لمحے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اس دنیا میں انسانیت کے نام پر درندگی بھی چلتی ہے۔
لیکن اسی دنیا میں انسانیت کے روشن چہرے بھی ہیں۔
میرے چھوٹے ابو نے ایک بار بتایا کہ جب وہ بہت چھوٹے تھے تو ممبئی میں پورے گھر والوں کے ساتھ گھومنے نکلے تھے۔ اتنی بھیڑ تھی کہ پتہ ہی نہیں چلا اور وہ گھر والوں سے بچھڑ گئے۔ بھیڑ سے نکل کر ایک سڑک کے کنارے بیٹھ گئے۔ اسی وقت ایک نیک انسان نے انہیں دیکھا، ان کا نام اور پتہ پوچھا اور کڑی محنت کر کے انہیں ان کے گھر والوں سے ملا دیا۔ اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس دنیا میں سو میں سے پانچ فیصد ایسے لوگ ابھی بھی موجود ہیں جو دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھتے ہیں۔
لیکن افسوس! آج کا انسان چاند کا سفر تو کر چکا ہے، مگر دوسرے کے دکھ درد کو اپنانے کی تو بہت دور کی بات ہے، احساس کرنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ آج کل کے انسانوں کی انسانیت صرف سوشل میڈیا پر لائکس اور کمنٹس بڑھانے کے لیے بچی ہے۔
آئیے! ہم آج عہد کریں کہ ہمیشہ اپنے اندر کی انسانیت کو زندہ رکھیں گے، مصیبت زدہ لوگوں کی جہاں تک ہو سکے مدد کریں گے، تاکہ یہ عمل ہمارے آخرت میں کام آئے۔