از قلم: جویریہ ارشد عظیمی
میں ایک بوڑھا درخت ہوں۔ آج میری شاخیں کمزور اور پتے بے رنگ ہیں، مگر ایک وقت تھا جب میری شاخیں آسمان کو چھونے کی کوشش کرتی تھیں۔ میری چھاؤں میں لوگ بیٹھتے، بچے کھیلتے اور پرندے میرے تن پر اپنے گھونسلے بناتے تھے۔ میں خاموش رہ کر سب کی خوشیاں دیکھتا اور اپنی موجودگی پر شکر ادا کرتا تھا۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب ایک ننھا سا پودا بن کر مجھے اس زمین میں لگایا گیا تھا۔ ایک بزرگ روزانہ مجھے پانی دیتے اور میری حفاظت کرتے۔ وہ اکثر میرے پاس بیٹھ کر کہتے، ’’ایک دن تم بہت بڑے درخت بنو گے اور بہت سے لوگوں کو سایہ دو گے۔‘‘ ان کی بات سچ ثابت ہوئی۔ وقت گزرتا گیا اور میں ایک گھنے درخت میں تبدیل ہوگیا۔
گرمی کے دنوں میں تھکے ہوئے مسافر میرے سائے میں آرام کرتے۔ پرندے میری شاخوں پر چہچہاتے اور شام کے وقت میری دنیا ان کی آوازوں سے آباد ہو جاتی۔ مجھے خوشی ہوتی کہ میں کسی کے کام آ رہا ہوں۔
لیکن وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔
ایک دن چند لوگ میرے قریب آئے۔ ان کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں تھیں۔ انہوں نے میرے تنے کو دیکھا اور آپس میں بات کرنے لگے۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ میرے دن گنے جا چکے ہیں۔ پہلی ضرب میرے جسم پر پڑی تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے وجود کو زخمی کر دیا ہو۔ میں چیخ نہیں سکتا تھا، صرف اپنی شاخیں ہلا سکتا تھا۔
میرے گھونسلے میں موجود ایک پرندہ خوف سے اڑ گیا۔ میری آنکھیں ہوتیں تو شاید آنسو بہتے، مگر میں صرف پتے گرا سکتا تھا۔
اس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان جس چیز کو بے جان سمجھتا ہے، اس کے اندر بھی زندگی کی ایک پوری دنیا ہوتی ہے۔ میری جڑوں نے اس مٹی کو برسوں تھاما تھا، میری شاخوں نے آندھیوں کا مقابلہ کیا تھا اور میری چھاؤں نے نہ جانے کتنے لوگوں کو سکون دیا تھا۔
میں زندگی اور موت کے درمیان کھڑا تھا۔ ایک طرف کلہاڑی کی تیز ضربیں تھیں اور دوسری طرف میرے اندر زندہ رہنے کی خواہش۔
اچانک ایک بچہ دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے لکڑہاروں کو روکا اور کہا، ’’اس درخت کو مت کاٹو، یہ ہمیں سایہ دیتا ہے۔‘‘ اس کی آواز شاید میری آخری امید تھی۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کلہاڑیاں نیچے رکھ دیں۔
میں بچ گیا۔
آج بھی میری شاخیں کمزور ہیں، مگر میرے دل میں ایک نئی زندگی ہے۔ میں نے جان لیا ہے کہ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی آواز بھی کسی کی پوری زندگی بچا سکتی ہے۔
میں صرف ایک درخت نہیں، کسی کی ضرورت، کسی کی یاد اور کسی کی آخری امید ہوں۔