از قلم: سدرہ وصی
میں ایک ماں ہوں۔ وہ ماں جس نے اپنی زندگی کے خوبصورت رنگوں سے مزین زندگی اپنے بچوں پر نچھاور کر دی میری اپنی خواہشیں، میرے اپنے خواب اور میری اپنی خوشیاں کہیں پیچھے رہ گئیں مگر میرے بچوں کی مسکراہٹ ہمیشہ میرے لیے سب سے بڑی خوشی رہی۔
گھنی دھوپ میں میں ان کے لیے ٹھنڈی چھاؤں بنی اور تند و تیز تپتے صحراؤں میں ان کی محافظ رہی جب وہ چھوٹے تھے تو ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ہی میری زندگی کا مقصد تھا۔ وہ ایک بات پانچ بار پوچھتے تو میں دس بار بتاتی۔ ان کے ننھے ننھے سوالات کبھی مجھے بوجھ نہیں لگتے تھے بلکہ ان کی معصوم باتیں میرے دن کا سکون ہوا کرتی تھیں۔
میں نے ان کی انگلی پکڑ کر انہیں چلنا سکھایا جب وہ لڑکھڑاتے تو میرا ہاتھ انہیں سنبھال لیتا جب گرتے تو میں انہیں اٹھاتی اور جب روتے تو اپنے آنچل سے ان کے آنسو پونچھ دیتی۔ ان کے پہلے قدم سے لے کر ان کی پہلی کامیابی تک ہر لمحہ میری آنکھوں کے سامنے آج بھی محفوظ ہے۔
میں نے انہیں پلا پوسا، تعلیم دلائی اور ان کی تربیت کی تاکہ وہ اچھے اور برے میں تمیز کر سکیں میں چاہتی تھی کہ وہ صرف کامیاب انسان ہی نہ بنیں بلکہ اچھے انسان بھی بنیں دوسروں کے دکھ کو سمجھیں رشتوں کی قدر کریں اور زندگی کے ہر لمحے کو محسوس کرنا سیکھیں۔
وقت گزرتا گیا میرے بچے بڑے ہوتے گئے اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ میں نے انہیں اپنے پروں سے نکل کر اڑتے دیکھا اور دل ہی دل میں ان کی خوشیوں کے لیے دعائیں کرتی رہی۔ مجھے لگا تھا کہ جس طرح میں نے ان کا بچپن سنوارا، بڑھاپے میں وہ میرا سہارا بنیں گے مگر آج جب میرے بالوں میں چاندنی جھلک رہی ہے، ہڈیاں بوڑھی ہو چکی ہیں، جسم تھکن سے چور ہے اور آنکھیں دروازے پر اپنوں کی راہ تکتی ہیں تو وہ بچے میرے پاس نہیں آتے۔
وہی بچے جو کبھی کہتے تھے، "ماں میری ہے!" آج کہتے ہیں"ماں!تیری ہے!"
کبھی کبھی سوچتی ہوں آخر وہ دن کہاں کھو گئے جب میری گود ہی ان کی پوری دنیا تھی؟ جن کے ایک آنسو پر میری راتیں جاگتے گزرتی تھیں آج ان کے پاس میرے لیے چند لمحے بھی نہیں۔
میں نے ان سے کبھی کچھ نہیں مانگا نہ دولت، نہ آسائش بس تھوڑا سا وقت، محبت کے دو بول اور کبھی میرے پاس بیٹھ جانے کی خواہش !
میں آج بھی ان کے لیے وہی ماں ہوں، جس نے اپنی پوری زندگی ان کے نام کر دی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ بڑے ہو گئے ہیں اور میں انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو گئی ہوں۔