خود نوشت

ڈھلتی عمر اور میں

خادمان قلم
05 ستمبر 2026
57
0
از قلم: منیبہ غوث 
میں ایک ایسی لڑکی ہوں جو جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ کر اب اس کے اگلے درجے کو پہنچ چکی ہوں۔
میری عمر لگ بھگ چالیس سال ہے، اس عمر کی خواتین کو صرف بچے ہی آنٹی نہیں کہتے بل کہ؛ وہ واقعی آنٹی بن جاتی ہیں یا شاید بنا دی جاتی ہیں۔
میرے بالوں میں سفید چاندی اترنے لگی ہے اور چہرے کے خد و خال اب ڈھلنے لگے ہیں گو کہ؛ اللہ کے فضل و کرم سے مجھ پہ بڑھاپے کے نقوش ثبت نہیں ہوئے لیکن ڈھلتی عمر کا تذکرہ زبان زدِ عام ہو جیسے۔
آہ! میں عمر کے اس حصے میں ہوں کہ جس میں شادی نہ ہونا سب سے بڑی تشویش ناک بات ہے۔ 
ہمارے معاشرے میں شادی نہ ہو تو لوگوں کو فکر ہوتی ہے،  شادی ہو جائے اور بچے نہ ہوں تو لوگ آتے جاتے اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ 
بچے ہو جائیں تو کوئی اور بات انہیں ہمارے لیے پریشان رکھتی ہے۔
گھر والوں کی فکر اپنی جگہ لیکن گھر کے باہر کے لوگوں کی فکرمندی اکثر اچنبھے میں ڈال دیتی ہے۔ ہر چند دن بعد ایک نئی تصویر، ایک نئی پروفائل دکھا کر یوں  پوچھا جاتا ہے گویا یہ آخری رشتہ ہے۔
میں شاید خود اس اذیت سے نہ گزرتی تو کبھی اسے نہ سمجھ پاتی لیکن اللّہ تعالیٰ نے مجھے اس صورت حال سے گزارا تا کہ میں ان شکستہ دل خواتین کی آواز بن سکوں۔
میں پچھلے دنوں ایک تقریب میں تھی، کسی خاتون نے پوچھا: 'آپ بچے گھر چھوڑ کر آئی ہیں؟ میرے جواب دینے سے پہلے ہی دوسری خاتون نے انتہائی غیر موزوں انداز سے قہقہ لگاکر کہا:
"ان کی تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئی۔"
لوگ نہیں جانتے کہ ان کے یہ رویے دوسروں کے اذہان پہ کیا تاثر ڈالتے ہیں؟ اگر وہ جان لیں تو شاید کسی کی ذہنی اذیت کا باعث نہ بنیں۔
میں بتاؤں کہ جب لوگ شادی اور بچوں سے متعلق سوال کرتے ہیں تو ہر حساس دل لڑکی ایک سرد آہ بھرتی ہے، وہ کسی سے کچھ نہیں کہتی، لیکن اللّہ تعالیٰ کے سامنے اپنی فریاد رکھتی ہے۔
خدارا! لوگوں کی زندگیوں کا ٹھیکہ نہ اٹھائیں، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو ان کے حق میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام لڑکیوں اور خواتین کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور اپنے خزانوں سے بہترین ساتھی عطا فرمائے ورنہ اسلام میں تو حضرت مریم علیہ السلام کی مثال بھی ملتی ہے جنہوں نے بغیر شادی کے بھی بہترین اور مثالی کردار ادا کیا اور جن کی پاکدامنی اور عصمت کی گواہی قرآن نے دی۔
میں آپ سب سے بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ اگر آپ نے میرے لیے کچھ کرنا ہی ہے تو دعا کریں، کیوں کہ دعا تقدیر بدلنے پر قدرت رکھتی ہے اور سب سے بڑی خیر خواہی بھی یہی ہے۔