خود نوشت

وہ عینک جو اب مجھے ڈھونڈتی ہے

خادمان قلم
05 ستمبر 2026
42
0
ازقلم: نازش عبد الرحمٰن
میں ایک عینک ہوں۔ ایک معمولی سی عینک، مگر میرے اندر ایک پوری دنیا محفوظ ہے۔ کبھی میں ایک باپ کی آنکھوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، آج اسی باپ کی آخری نشانی بن کر ایک خاموش کونے میں رکھی ہوں۔
مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب پہلی بار مجھے انہوں نے اپنی آنکھوں پر سجایا تھا۔ ان کی آنکھیں تھکی ہوئی ضرور تھیں، مگر ان میں اپنے بچوں کے لیے بے شمار خواب روشن تھے۔ میں نے ان آنکھوں سے اپنے بچوں کی کامیابیاں دیکھیں، ان کی شرارتوں پر مسکراتے ہوئے دیکھا اور ان کے مستقبل کے لیے دعائیں مانگتے ہوئے محسوس کیا۔
میں نے ابو کو صبح سویرے اٹھتے دیکھا۔ کبھی وہ میری مدد سے اخبار پڑھتے، کبھی کسی ضروری کاغذ کو غور سے دیکھتے اور کبھی خاموشی سے بیٹھ کر گھر بھر کو دیکھتے رہتے۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شفقت تھی؛ ایسی شفقت جس کا اندازہ شاید تب نہیں ہوا، جب وہ ہمارے سامنے موجود تھے۔
پھر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
وہ دن میری زندگی کا آخری دن تھا جب میں ان کی آنکھوں سے جڑی تھی۔ انہوں نے مجھے اتارا اور شاید انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ اب وہ دوبارہ مجھے پہن نہیں سکیں گے۔ اس لمحے میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ جس چہرے پر میں برسوں سے سجتی آئی ہوں، اسے آخری بار دیکھ رہی ہوں۔
آج میں وہیں موجود ہوں، مگر وہ نہیں ہیں۔
کبھی کوئی مجھے اٹھاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ابھی دروازہ کھلے گا، ابو آئیں گے، مجھے تلاش کریں گے اور محبت سے کہیں گے، ’’میری عینک کہاں ہے؟‘‘
مگر دروازہ کھلتا ہے، لوگ آتے جاتے ہیں، وقت گزرتا رہتا ہے۔بس وہ آواز واپس نہیں آتی۔
لوگ مجھے دیکھ کر شاید صرف ایک پرانی عینک سمجھیں، مگر میں جانتی ہوں کہ میں کیا ہوں۔ میں ایک باپ کی آخری نظر ہوں، اس کی محنت کی گواہ ہوں، اس کی محبت کی امین ہوں اور ان دعاؤں کی نشانی ہوں جو اس نے اپنے بچوں کے لیے مانگی تھیں۔
میں آج بھی سنبھال کر رکھی گئی ہوں، کیونکہ مجھے پھینک دینا ایسا لگتا ہے جیسے ابو کی کوئی یاد پھینک دینا۔
میں عینک ہوں… مگر اب میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ کاش وقت پلٹ جائے، کاش وہ مجھے دوبارہ اپنی آنکھوں پر رکھیں، اور کاش میں ایک بار پھر ان آنکھوں میں اپنے لیے نہیں، اپنے بچوں کے لیے وہی محبت دیکھ سکوں۔
مگر کچھ خواہشیں صرف یاد بن کر رہ جاتی ہیں۔
اور میں بھی اب ان کی آخری یاد بن کر خاموشی سے ان کا انتظار کرتی ہوں۔