سوال ۱: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا لاک ڈاون کے زمانہ میں جبکہ مسجدوں میں جمع ہونے سے منع کیا گیا ہے مرد حضرات گھروں میں سنت اعتکاف کر سکتے ہیں؟
الجواب:
مردوں کے لئے گھر میں اعتکاف کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ اعتکاف کیلئے چند شرطیں ہیں جن میں ایک نیت ہے، بغیر نیت کے اگر کسی نے اعتکاف کیا بھی تو بلا جماع درست نہیں۔ اعتکاف کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ مسجدِ جماعت ہو، پس ہر وہ مسجد جس میں اذان و اقامت ہوتی ہو اعتکاف اس کے لئے درست ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے گھر میں یا برامدے میں یا کسی اور جگہ اعتکاف کرے تو درست نہیں۔
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۳۵۲)
سوال ۲: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے سے دوا کی تاثیر حلق میں پائی جائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
الجواب:
روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ دوا کا اثر حلق میں محسوس ہو، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے۔
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۲۲۵/۲۲۶)
سوال ۳: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ روزے کی حالت میں حقہ پینا کیسا ہے؟
الجواب:
روزہ رکھ کر بیڑی سگریٹ حقہ وغیرہ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، یونہی پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ پیک تھوک دی ہو۔ گل کے استعمال سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔ حقہ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر روزہ یاد ہو اور جان بوجھ کر پیئے تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۳۲۲/۳۲۳)
سوال ۴: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ حالت روزہ میں کسی عورت کو حیض و نفاس آگیا تو کیا حکم ہے؟
الجواب:
اگر کسی عورت کو حالت روزہ میں حیض و نفاس آگیا تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا، بعد میں اس کی قضا کرے، اگر روزہ فرض تھا تو قضائے فرض ہے، اگر روزہ نفل تھا تو قضاءِ نفل واجب ہے۔ اگر وہ دن بھر روزہ کی طرح گزارے تو اس کو اس روزہ کا ثواب بھی مل جائے گا۔
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۳۲۹)
سوال ۵: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جس مسجد میں تراویح نہیں ہو رہی ہے تو کیا اس مسجد میں اعتکاف کے لئے بیٹھ سکتے ہیں؟ اور کیا اعتکاف کا تعلق تراویح سے ہے؟
الجواب:
اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے، اس کے لئے تراویح شرط نہیں۔ جس مسجد میں تراویح کی نماز نہیں ہوتی ہے اس مسجد میں بھی اعتکاف کے لئے بیٹھنا درست ہے، اس لئے کہ تراویح اعتکاف کے لئے شرط نہیں ہے۔
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۳۵۲)