بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب-اللهم لک الحمد یا وھاب صل وسلم علی السید الاواب وعلی اله وازواجه والأصحاب اسئلک ھدایة الحق والصواب
اگر معاذ اللہ کلمہ کفر جاری کرنے(کہنے پر)پر کوئی شخص مجبور کیا گیا یعنی اسے مار ڈالنے یا عضو کے کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والےکو اس بات پر قابل سمجھے تو ایسی حالت میں کلمہ کفر کہنے کی کہنے کی رخصت دی گئی ہے۔
چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد پاک
مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ
(سورۃ النحل آیت ١٠٦)
ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو(کنزالایمان)
شان نزول:-یہ آیت عمار بن یاسر کے حق میں نازل ہوئی انہیں اور ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ اور صہیب اور بلال اور خباب اور سالم رضی اللہ عنہم کو پکڑ کر کفار نے سخت سخت ایذائیں دی تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں لیکن یہ حضرات نہ پھرے تو کفار نے حضرت عمار کے والدین کو بہت بے رحمیوں سے قتل کیا اور عمار ضعیف تھے بھاگ نہیں سکتے تھے انہوں نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادل ناخواستہ کلمۂ کفر کا تلفظ کر دیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی کہ عمار کافر ہو گئے فرمایا ہرگز نہیں عمار سر سے پاؤں تک ایمان سے پر ہے اور اس کے گوشت اور خون میں ذوق ایمانی سرایت کر گیا ہے پھر حضرت عمار روتے ہوئے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا عمار نے عرض کیا اے خدا کے رسول بہت ہی برا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے ارشاد فرمایا اس وقت تیرے دل کا حال کیا تھا عرض کیا دل ایمان پر خوب جما تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیے اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی مسئلہ آیت سے معلوم ہوا کہ حالت اکراہ میں اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمہ کفر کا اجرا جائز ہے جبکہ آدمی کو اپنے جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خوف ہو مسئلہ اگر اس حالت میں بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو وہ معذور اور شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سید الشہداء فرمایا مسئلہ جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جمع ہوا نہ ہو وہ کلمہ کفر زبان پر لانے سے کافر ہو جائے گا مسئلہ اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے تمسخر یا جہل سے کلمہ کفر زبان پر جاری کرے کافر ہو جائے گا (خزائن العرفان)
تفسیر جلا لین میں ہے:
"فَمَنْ أُكْرِهَ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ عَلَى التَّلَفُّظِ بِالْكُفْرِ تَلَفَّظَ بِهِ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَمَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا أَيْ فَتَحَه وَوَسَّعَه بمعْنِي طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ذلک الوعید لھم"اھ
(تفسیر جلالین،ص 226،مطبع مجلسِ برکات)
یعنی :جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے یعنی کفریہ کلمہ کہلوایا گیا اور اس نے کلمہ کفریہ کہا سوائے اس کے جسے انتہائی مجبور کر دیا گیا مگر اس کا دل بدستور ایمان سے مطمئن ہے یہاں پر من مبتدا ہے یا شرطیہ ہے اور خبر ان کے لیے جواب ہے جس میں سخت وعید ہے جس پر آیت کی دلالت ہے لیکن ہاں وہ شخص جس نے شرح صدر کے ساتھ کفر اختیار کیا یعنی جس کا دل کفر سے خوش ہوا لہذا ان پر اللہ تعالی کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لیے زبردست عذاب ہے
تفسیر روح المعانی میں ہے:
"﴿وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ حالٌ من المستثنى... والمراد هنا السكون والثبات على ما كان عليه بعد انزعاج الإكراه وإنما نُصَّ بذلك العامل إيماءً إلى أنه ليس بكفرٍ حقيقة" اھ (،ص٣٥٠)
یعنی :اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو یہ مستثنیٰ کی حالت ہے یہاں اطمینان سے مراد اکراہ کی گھبراہٹ کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہنا ہے، اور اس قید کو ذکر کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (مجبوری میں زبان سے کلمۂ کفر کہنے والا) حقیقتاً کافر نہیں ہوتا۔ اور
﴿وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا﴾ أي اعتقده، وطابت به نفسًا
(تفسیر روح المعانی ، جلد ۸،ص350)۔
ترجمہ: لیکن جس نے کفر کے لیے اپنا سینہ کھول دیا یعنی اس نے کفر کو دل سے قبول کر لیا اور اس پر راضی و خوش ہو گیا اور تفسیر قرطبی میں ہے
أجمع أهلُ العلم على أنَّ من أُكرِه على الكفر حتى خشي على نفسه القتلَ، أنه لا إثمَ عليه إن كفر وقلبُه مطمئنٌّ بالإيمان، ولا تَبِينُ منه زوجتُه، ولا يُحكم عليه بحكم الكفر
(تفسیر قرطبی ،جلد۱۲،ص۴۳۵)
تفسیر قرطبی مترجم میں ہے:" اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جسے کفر پر مجبور کیا گیا یہاں تک کہ اسے اپنے اوپر قتل کا خوف غالب ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر اس نے کفر کیا بشرطیکہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو اور نہ اس سے اس کی بیوی جدا ہوگی نہ اس پر کفر کے حکم کے ساتھ حکم لگایا جائے گا
تبیان القرآن میں ہے:"اگر کسی شخص پر جبر کیا گیا کہ وہ کلمہ کفر کہے معاذ اللہ اللہ تعالی کا کفر کرے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے ورنہ اس کو قید کر دیا جائے گا یا ضرب شدید لگائی جائے گی تو یہ اکراہ نہیں ہے حتیٰ کہ اس کو قتل کرنے کی دھمکی دی جائے یا اس کے کسی عضو کو کاٹنے کی دھمکی دی جائے اور جب اس کو اپنی جان کا خطرہ ہو تو اس کے لیے ان کا کہنا مان لینا جائز ہے مگر کفر میں تو ریا کرے اگر اس نے کلمۂ کفریہ کہا اور اس کا دل ایمان سے مطمئن تھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں"اھ
(تبیان القرآن : حصہ ۶ ص٥٨٣،)
فتاوی ہندیہ میں ہے:" وَإِنْ أُكْرِهَ عَلَى الْكُفْرِ بِاَللَّهِ تَعَالَى أَوْ سَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلٍ أَوْ قَطْعٍ رُخِّصَ لَهُ إظْهَارُ كَلِمَةِ الْكُفْرِ وَالسَّبِّ، فَإِنْ أَظْهَرَ ذَلِكَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ فَلَا يَأْثَمُ، وَإِنْ صَبَرَ حَتَّى قُتِلَ كَانَ مُثَابًا"اھ ( کتاب الاکراہ باب الثانی،ص٣٨)
یعنی :اگر کسی شخص کو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے پر قتل کر دینے یا اس کا کوئی عضو کاٹ دینے کی دھمکی دے کر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے کلمہ کفر یا گستاخی کے الفاظ زبان سے ادا کرنے کی رخصت ہے پس اگر وہ ایسا کر لیں جبکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور اگر وہ صبر کرے یہاں تک کہ قتل کر دیا جائے تو اجر و ثواب کا مستحق ہوگا
بہار شریعت میں ہے :"اگر معاذ اللہ کلمۂ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا ، مگر افضل جب بھی یہی ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمۂ کفر نہ کہے"
اھ ( ،جلداول، حصہ اول ص ١٧٤)۔
حضرت علامہ شمس الدین احمد جعفری رضوی قدس سرہ اپنی کتاب میں اس مسئلے کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں :" منہ سے بولی نہیں نکلتی ہے یا زبان سے کہنے میں جان جاتی ہے یہ عضو کاٹا جاتا ہے تو اس وقت زبان سے اقرار کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف زبان سے خلاف اسلام بات بھی جان بچانے کے لیے کہہ سکتا ہے لیکن نہ کہنا اچھا ہے اور ثواب ہے" اھ
(قانون شریعت ،جلداول،صفحہ ٤٠).
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
متعلمہ دار الافتاء شعیب الاولیاء