سوال ۱: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ حیض و نفاس کی حالت میں قرآنِ شریف کا پڑھنا سننا جائز ہے؟
الجواب:
حیض و نفاس کی حالت میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا حرام ہے۔ ان دنوں کی نمازیں معاف ہیں، ان کی قضا بھی نہیں۔ البتہ روزوں کی قضا دوسرے دنوں میں رکھنا فرض ہے۔ حیض و نفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا حرام ہے، خواہ دیکھ کر پڑھے یا زبانی پڑھے۔ یوں ہی قرآن کا چھونا بھی حرام ہے۔ ہاں، اگر جزدان میں قرآنِ مجید ہو تو اس جزدان کو چھونے میں حرج نہیں۔
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۱۲۶ )
سوال ۲: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ غیرمحرم ع
ورت کا غیرمحرم مرد میت کا چہرہ دیکھنا کیسا ہے؟الجواب:
مستورات کو اجنبی میت کو دیکھنا ناجائز ہے، اپنے محرم کو دیکھ سکتی ہیں، کیونکہ حدیثِ شریف میں اجنبی شخص کو دیکھنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
( فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۳۷۳ )
سوال ۳: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ قبر کے اندر پکی اینٹ سیمنٹ مسالے کے ساتھ لگا سکتے ہیں؟
الجواب:
قبر کے اندر پکی اینٹ لگانا مکروہ ہے، کہ اینٹ آگ سے پکتی ہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آگ کے اثر سے بچائے، اور اگر ضرورت ہو تو کچی اینٹ لگا سکتے ہیں۔
( فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۳۹۶ )
سوال ۴: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر باپ صاحبِ نصاب ہو تو کیا اسے اپنے عاقل بالغ بیٹے زید کا فطرہ ادا کرنا ضروری ہے، جبکہ زید شرعی فقیر ہے؟
الجواب:
باپ اگرچہ صاحبِ نصاب ہو، اسے اپنے بالغ بیٹے کا صدقہ ادا کرنا ضروری نہیں۔ بہار شریعت میں درِ مختار کے حوالے سے ہے کہ اپنی عورت اور اولادِ عاقل و بالغ کا فطرہ اس کے ذمے نہیں، اگرچہ وہ اپاہج ہو، اگرچہ اس کے نفقات اس کے ذمے ہوں۔
( فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۴۱۸ )
سوال ۵: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا ٹی وی پر بھی زکوٰۃ واجب ہے؟
الجواب:
آلاتِ لہو و لعب خریدنا ہی ناجائز ہے، اور اس کی قیمت بھی نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص اسے توڑ پھوڑ دے تو اس پر تاوان بھی واجب نہیں۔ ٹی وی آلاتِ لہو و لعب میں سے ہے، اس کا اپنے پاس رکھنا حرام ہے، اور شریعت کے نزدیک ٹی وی مال ہی نہیں، لہٰذا اس پر زکوٰۃ نہیں۔
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ۴۲۱)