مسائل شرعیہ

آپ کے سوالات، شرعی جوابات

پروین فاطمہ بنت محمد سلیم
99
0
(١)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو "حاضر و ناظر" نہیں بول سکتے، بکر کا کہنا ہے کہ بول سکتے ہیں۔ بالتفصیل قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، نوازش ہوگی۔
جواب: زید کا قول درست ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے "حاضر و ناظر" کا لفظ استعمال کرنا منع ہے، جیسا کہ فتاویٰ فیض الرسول جلد اول میں ہے کہ "حاضر و ناظر" خدائے تعالیٰ کے اسمائے توصیفیہ میں سے نہیں ہے، اور ان الفاظ کے بعض معانی شانِ الوہیت کے خلاف ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ کو "حاضر و ناظر" نہیں کہنا چاہیے۔ لیکن اگر کسی نے کہہ دیا تو کفر نہیں ہے۔ (فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ٤٦)
(٢)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ "امتی کیا خود خدا ہے، شیدا تمہارا" یہ شعر کہاں تک درست ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کو "شیدائے محمد" کہنا جائز نہیں ہے کہ اس میں معنیٔ سوء کا احتمال ہے۔ "شیدا" کا معنیٰ آشفتہ، فریفتہ، مجنوں، عشق میں ڈوبا ہوا عاشق ہے، اور اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے منزّہ ہے۔
 (فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ٤٦)
(٣)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا اس طرح کی دعا کر سکتے ہیں کہ "یا اللہ! ہماری دعا قبول فرمائیے"، یعنی اللہ کے لیے "فرمائیے" کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: بہ نیتِ تعظیم یہ درست ہے، لیکن احتیاط اس میں یہ ہے کہ اس کی شانِ یکتائی ظاہر کرنے کے لیے واحد کا صیغہ استعمال کیا جائے، یہی مسلمانوں میں رائج ہے۔ مسلمانوں میں جو طریقہ رائج ہو اور اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو، اس کے خلاف کرنا شورش پھیلانا ہے۔ اس لیے، اللہ عزوجل کے لیے (جمع کا صیغہ) کہنے سے احتراز چاہیے۔ دورِ حاضر میں اللہ تعالیٰ کے لیے جمع کے صیغے کا استعمال دیوبندی و وہابی کے یہاں مستعمل ہے، اور یہ ان کی علامت بن گئی ہے، لہٰذا مسلمان اس سے احتراز کریں۔
 (فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ٤٧)
(٤)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ "سب اللہ کی مشیت سے ہو رہا ہے" یہ کہنا کیسا ہے؟
جواب: جی ہاں، جو کچھ ہوتا ہے سب اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، سوائے بُرے کاموں کے، جیسا کہ قرآن میں ہے۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ترجمہ کنزالایمان: "تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر اللہ چاہے تو۔" (فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ٤٨)
(٥)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کس نبی کی شریعت میں سختی زیادہ تھی، نیز کس نبی کی شریعت میں بہت زیادہ آسانی تھی، اور وہ آسانیاں و سختیاں کیا تھیں؟
جواب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین میں سختی تھی، مثلاً: کسی نے گناہ کر لیا تو اس کی توبہ یہ تھی کہ اسے قتل کیا جائے، اور مالدار کے لیے ضروری تھا کہ وہ زکوٰۃ میں مال کا چوتھائی حصہ نکالے۔ اسی طرح جس جگہ نجاست لگ جائے، اس جگہ کو کاٹ کر پھینکنا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین میں نرمی تھی، مثلاً: شراب نوشی مطلقاً مباح تھی۔ 
(فتاویٰ فخر ازہر، جلد اول، ص ٦٦)