سوال 1: نئے تعلیم یافتہ لوگوں نے مسلمانوں کو کیا مشورہ دیا؟
جواب: نئے تعلیم یافتہ لوگوں نے مسلمانوں کو مغربی تہذیب اپنانے کا مشورہ دیا کہ داڑھیاں مونڈیں، لمبی مونچھیں رکھیں، نیکر (جانگھیا) پہنیں، بوٹ پتلون استعمال کریں، نماز کو خیر باد کہیں، پردہ توڑ دیں، اپنی بیویوں کو ساتھ لے کر بازاروں میں نکلیں اور کالج و اسکولوں میں لڑکے لڑکیاں مل کر تعلیم حاصل کریں۔
(اسلامی زندگی، چھٹا باب: نیا فیشن اور پردہ، ص ۸۱)
اسلامی شکل و لباس کے کیا فائدے بیان کیے گئے ہیں؟
جواب: اسلامی شکل و لباس کے درج ذیل فائدے بیان کیے گئے ہیں:
1: گورنمنٹ نے ہزاروں محکمے بنائے ہیں جیسے ریلوے، ڈاکخانہ، پولیس، فوج وغیرہ، ہر محکمے کے لیے وردی مقرر ہے تاکہ پہچان ہوسکے۔
2: قدرت نے ہر انسان کی ظاہری صورت اور دل میں ایسا رشتہ رکھا ہے کہ ہر ایک کا دوسرے پر اثر پڑتا ہے۔ چہرے کی خوشی دل میں خوشی اور اداسی دل میں اداسی پیدا کرتی ہے۔
(اسلامی زندگی، ص ۸۳، ۸۴)
سوال 3: کافروں جیسا لباس پہننے کا کیا نقصان ہے؟
جواب: کافروں جیسا لباس پہننے سے دل پر ان کی صورت کا اثر ہوتا ہے، یقیناً دل میں کافروں سے محبت اور مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوجائے گی اور یہ بیماری آخر میں ہلاک کر دے گی۔ اس پر حدیث پاک میں آیا ہے:
"مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ"
یعنی جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے۔
(اسلامی زندگی، ص ۸۵، حدیث: ابو داؤد)
سوال 4: ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کا ذکر کس طرح کیا گیا؟
جواب: ہندوستان میں اکثر ہندو مسلم فساد ہوتا رہتا ہے۔ ایسے فساد کی حالت میں بعض مسلمان ہندوؤں کے ہاتھوں مارے گئے کیونکہ پہچانے نہ گئے۔ بریلی اور پیلی بھیت میں ہندو مسلم فساد ہوا تو ہندوؤں نے مسلمانوں کو خود مسلمانوں سے بے پہچان کر دیا۔ اس طرح نئے فیشن کی برکتیں سامنے آئیں۔
(اسلامی زندگی، ص ۸۵)