کہانی

افطار کی خوشبو اور بچپن کی یادیں

عالمہ ام الورع ایوبی
40
1
رمضان المبارک وہ مہینہ جس کی ہر ساعت رحمت کا پیام لاتی ہے جس کی ہر شام آسمان سے اترتی ہوئی برکتوں کی چادر اوڑھے زمین پر قدم رکھتی ہے اور جس کی ہر اذان مغرب روزہ داروں کے لبوں پر شکر اور آنکھوں میں دعا کی نمی سجا دیتی ہےوہ بھی رمضان ہی کی ایک شام تھی عصر کا وقت اپنے آخری لمحات گن رہا تھاسورج مغرب کی دہلیز کی طرف خاموشی سے جھک رہا تھا جیسے وہ بھی روزہ داروں کے ساتھ افطار کے انتظار میں ٹھہر گیا ہو آسمان پر بکھری ہوئی سنہری کرنیں مدرسے کی سفید دیواروں کو اپنے رنگ میں رنگ رہی تھیں اور نرم ہوا کبھی صحن میں لگے درختوں کے پتوں سے سرگوشی کرتی، تو کبھی باورچی خانے کی کھڑکی سے اندر آ کر گرم تیل اور مصالحوں کی خوشبو کو اپنے دامن میں سمیٹ کر پورے احاطے میں بکھیر دیتی مدرسے کا ہر گوشہ ایک خاموش عبادت میں مشغول دکھائی دیتا تھاکہیں کوئی قرآنِ کریم کی تلاوت میں محو تھا کہیں کوئی طالبہ تسبیح کے دانوں پر اللہ کا ذکر کر رہی تھی، اور ادھر باورچی خانے میں ایک الگ ہی دنیا آباد تھی ایسی دنیا جہاں شور نہیں تھامحبت بول رہی تھی جہاں جلدی نہیں تھی خدمت مسکرا رہی تھی اور جہاں ہر ہاتھ کسی نہ کسی نیکی میں مصروف تھامیں چولہے کے سامنے کھڑی دیگچی میں پکنے والے گوشت کو آہستہ آہستہ چمچ سے ہلا رہی تھی سالن کی خوشبو پورے کمرے میں پھیل چکی تھی، مگر میری نگاہیں بار بار ان معصوم بچیوں پر جا کر ٹھہر جاتی تھیں جن کی چھوٹی چھوٹی ہتھیلیاں آج خدمت کے ایک خوبصورت سبق کو عملی جامہ پہنا رہی تھیں ذرا سامنے نگاہ گئی تو نور فاطمہ اور ام کلثوم نظر آئیں انہیں دیکھ کر بے اختیار میرے لبوں پر مسکراہٹ آگئی کبھی یہی دونوں بچیاں اپنی ننھی ننھی انگلیوں میں پنسل پکڑنے کی مشق کیا کرتی تھیں کبھی اپنی چھوٹی سی چادر سنبھالتی پھرتی تھیں کبھی سبق سناتے ہوئے گھبرا جاتی تھیں اور کبھی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتی تھیں۔ ان کے چہروں پر معصومیت اس طرح بکھری ہوتی تھی جیسے شبنم کے قطرے کسی نوخیز پھول پرمگر آج وہی ننھی کلیاں وقت کی آغوش میں پروان چڑھ کر ذمہ داری کا مفہوم سمجھنے لگی تھیں نور فاطمہ نہایت توجہ سے پکوڑیاں تیل میں ڈال رہی تھی جبکہ ام کلثوم اس کے ساتھ کھڑی ہر کام میں اس کا ہاتھ بٹا رہی تھی ان دونوں کے چہروں پر وہی معصومیت تو باقی تھی مگر اس معصومیت میں اب شعور کی سنجیدگی بھی شامل ہو چکی تھی
ذرا ادھر نظر گئی تو شمع بڑی احتیاط سے سنہری پکوڑیوں کو چھلنی میں نکال رہی تھی، تاکہ اضافی تیل الگ ہو جائے۔ اس کے چہرے پر ایسی دلجمعی تھی جیسے وہ کوئی معمولی کام نہیں، بلکہ محبت کی ایک عبادت انجام دے رہی ہوپاس ہی ترنم بیٹھی تھی طبیعت اس کی کچھ ناساز تھی چہرے پر ہلکی سی زردی بھی نمایاں تھی، مگر نہ جانے اس ننھے سے دل میں خدمت کا جذبہ کہاں سے آ گیا تھا کہ بار بار کہتی آپا مجھے بھی کام کرنے دیجیےمیں اسے آرام کا کہتی مگر وہ مسکرا دیتی اور خاموشی سے پھر کسی نہ کسی کام میں مصروف ہو جاتی باورچی خانے سے ذرا باہر نکلی تو صحن کا منظر اور بھی دلکش تھارابعہ کی جماعت کی بچیاں بڑے سلیقے سے پھل کاٹ رہی تھیں کسی کے ہاتھ میں سیب تھا کسی کے ہاتھ میں کیلا کوئی انار کے دانے نکال رہی تھی تو کوئی پلیٹوں کو خوبصورتی سے سجا رہی تھی ادھر جماعتِ خامسہ کی طالبات نہایت قرینے سے دسترخوان بچھا رہی تھیں کوئی گلاس ترتیب دے رہی تھی کوئی کھجوروں کی پلیٹ رکھ رہی تھی اور کوئی پانی کے جگ بھر کر ایک طرف رکھ رہی تھی اس وقت اگر کوئی وہاں آتا تو شاید اسے یوں محسوس ہوتا کہ یہ صرف افطار کی تیاری نہیں بلکہ محبت، تربیت اور اخلاص کا ایک خاموش درس جاری ہےمیں یہ سب دیکھ رہی تھی میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی اتر رہی تھی لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ اگلے ہی لمحے وقت ایک ایسا دروازہ کھول دے گاجس کے اُس پار میرا اپنا بچپن میرا منتظر کھڑا ہوگامیں کچھ دیر تک یونہی کھڑی ان بچیوں کو دیکھتی رہی چولہے کی آنچ جل رہی تھی دیگچی میں سالن آہستہ آہستہ پک رہا تھا، گرم تیل میں پکوڑیوں کی ہلکی سی آواز گونج رہی تھی مگر نہ جانے کیوں اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے یہ ساری آوازیں بہت دور چلی گئی ہوں یادوں نے خاموشی سے میرا ہاتھ تھام لیااور میں ایک لمحے میں برسوں پیچھے چلی گئی وہی رمضان کی شام ہمارا چھوٹا سا گھروہی کچی عمر جس میں دنیا کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی تھی کہ افطاری میں آج کیا بنے گامجھے آج بھی یاد ہےعصر ڈھلتے ہی گھر کا ماحول بدل جایا کرتا تھاامی باورچی خانے میں مصروف ہوتیں کبھی بیسن گھول رہی ہوتیں، کبھی چولہے پر سالن چڑھا رہی ہوتیں کبھی شربت بنا رہی ہوتیں باورچی خانے سے اٹھنے والی خوشبو پورے گھر میں پھیل جاتی اور ہم بہن بھائی اس خوشبو کے سہارے بار بار باورچی خانے تک پہنچ جاتےہر بار ایک ہی سوال ہوتا.امی! افطاری تیار ہوگئی؟اور ہر بار امی ہنس دیتیں وہ ہمارے سروں پر محبت سے ہاتھ پھیرتیں اور بڑے اطمینان سے کہتیں ابھی وقت ہے جاؤ باہر کھیل لو افطاری تیار ہو جائے گی تو میں خود بلا لوں گی ہمیں امی کی بات پر ایسا یقین ہوتا کہ اگلے ہی لمحے سب کچھ بھول کر گلی میں کھیلنے نکل جاتے نہ وقت کا احساس نہ اذان کی فکر نہ دسترخوان کی سوچ کیونکہ دل مطمئن تھا کہ امی ہیں نا وہ ہمیں خود بلا لیں گی بچپن بھی کیا عجیب نعمت تھاذمہ داری کا کوئی بوجھ نہیں فکر کا کوئی سایہ نہیں بس محبتوں کی ٹھنڈی چھاؤں اور اپنوں کی شفقت لیکن وقت کبھی ایک جگہ نہیں رکتا
وہ خاموشی سے انسان کے ہاتھ تھام کر اسے ایک منزل سے دوسری منزل تک لے جاتا ہےکل میں وہ بچی تھی جو امی کے تیار کیے ہوئے دسترخوان کا انتظار کرتی تھی اور آج میں خود اپنی طالبات کے لیے افطار تیار کر رہی تھی یہ سوچتے ہی میری نگاہ پھر نور فاطمہ اور ام کلثوم کی طرف اٹھ گئی میں انہیں دیکھتی رہی اور میرے دل نے آہستہ سے کہاکیا یہی وہ ننھی سی بچیاں نہیں ہیں جو کبھی دوپٹہ سنبھالتے سنبھالتے خود الجھ جایا کرتی تھیں؟
کبھی سبق سناتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتی تھیں کبھی معمولی سی بات پر رو دیتی تھیں اور آج وہی ننھے ہاتھ دوسروں کے لیے افطار تیار کر رہے تھےوقت نے ان کے قد ہی نہیں بڑھائے تھےبلکہ ان کے دلوں میں ذمہ داری، احساس اور خدمت کا چراغ بھی روشن کر دیا تھا
میں انہیں دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرائی
یہ منظر صرف افطاری کا نہیں تھا
یہ تربیت کے پھل کا منظر تھا
یہ اس سفر کی خوبصورتی تھی جس میں ایک دن استاد شاگرد کا ہاتھ پکڑتا ہےاور پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہی شاگرد دوسروں کا سہارا بن جاتے ہیں
میرے دل میں شکر کے جذبات موجزن تھے
میں نے بے اختیار آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں عرض کیایا اللہ! تو نے واقعی وقت کو کتنا حسین بنایا ہےکبھی ہم خدمت لینے والوں میں تھے اور آج خدمت کرنے والوں میں ہیں کبھی ہم دوسروں کی دعاؤں کے محتاج تھےاور آج ہماری دعائیں ہماری طالبات کے لیے اٹھتی ہیں اتنے میں کسی ننھی سی آواز نے میری سوچوں کا سلسلہ توڑ دیا
آپاپکوڑیاں تیار ہوگئی ہیں اب کیا کریں؟
میں چونک کر حال میں واپس آگئی
یادوں کی وہ حسین دنیا آہستہ آہستہ نگاہوں سے اوجھل ہونے لگی مگر اس کی خوشبو اب بھی میرے دل میں بسی ہوئی تھی
میں نے مسکرا کر کہابیٹا اب انہیں پلیٹ میں سجا دو اذان کا وقت بھی قریب ہےاور پھر میں نے محسوس کیازندگی واقعی ایک خوبصورت دائرہ ہےکل میں اپنی ماں کی آواز پر افطار کے لیے گھر لوٹتی تھی
اور آج میری طالبات میری آواز پر دسترخوان سجا رہی تھیں۔میں نے نرمی سے کہابیٹا! پکوڑیاں پلیٹوں میں سجا دو، اب مغرب میں زیادہ دیر نہیں رہی
میرے الفاظ گویا حکم نہیں بلکہ محبت کی ایک نرم سی دستک تھے نور فاطمہ نے مسکراتے ہوئے جی آپا جی کہاام کلثوم نے جلدی سے پلیٹ آگے بڑھائی اور شما نے نہایت احتیاط سے سنہری پکوڑیوں کو اس میں سجا دیا ترنم جس کے چہرے پر نقاہت کے آثار ابھی تک نمایاں تھے پھر بھی خاموشی سے ایک طرف رکھی کھجوروں کی پلیٹ درست کرنے لگی میں نے اسے پیار سے دیکھا اور کہاترنم کچھ دیر بیٹھ جاؤ طبیعت ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی وہ مسکرا دی اس کی مسکراہٹ میں عجیب سی طمانیت تھی
آپا بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے پھر بیٹھ جاؤں گی اس ایک جملے نے میرے دل میں عجیب سی لہر پیدا کر دی میں سوچنے لگی کہ خدمت کا جذبہ واقعی عمر کا محتاج نہیں ہوتا بعض اوقات چھوٹے چھوٹے دل وہ اخلاص سموئے ہوتے ہیں جو بڑے بڑے لوگوں میں بھی کم نظر آتا ہےادھر رابعہ کی جماعت نے پھلوں کی پلیٹیں اس خوبصورتی سے سجا دی تھیں کہ یوں لگتا تھا جیسے رنگوں کی کوئی تصویر بنا دی گئی ہوجماعت خامسہ کی بچیاں دسترخوان کے آخری کنارے سیدھے کر رہی تھیں کوئی پانی کے جگ رکھ رہی تھی کوئی گلاسوں کی ترتیب درست کر رہی تھی، اور کوئی بار بار مڑ کر پوچھتی آپا اب سب ٹھیک ہے نامیں ہر سوال کے جواب میں صرف مسکرا دیتی کیونکہ میرے دل میں الفاظ سے زیادہ دعائیں اتر رہی تھیں اس لمحے میں نے ایک ایک چہرے کو غور سے دیکھا یہ وہی بچیاں تھیں جنہیں کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر سمجھانا پڑتا تھاکبھی کسی کا ربن کھل جاتاکبھی کسی کی چادر بار بار سرک جاتی کبھی کوئی سبق بھول کر رونے لگتی اور کبھی کوئی صرف اس لیے ناراض ہو جاتی کہ اس کی سہیلی اس کے ساتھ نہیں بیٹھی آج وقت نے انہیں کتنا بدل دیا تھااب ان کے ہاتھوں میں ذمہ داری تھی ان کی آنکھوں میں شعور تھا اور ان کے چہروں پر خدمت کی روشنی جھلک رہی تھی میں نے دل ہی دل میں کہااے اللہ واقعی وقت تیرے عجائبات میں سے ایک عجیب نعمت ہےاسی اثنا میں مسجد سے مؤذن کی آواز ابھری اللہ اکبر اللہ اکبریہ الفاظ سنتے ہی جیسے پورا ماحول یک دم خاموش ہو گیا چند لمحے پہلے جو ہاتھ مصروف تھےاب دعا کے لیے اٹھنے لگے جو زبانیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں وہ ذکرالٰہی میں مشغول ہو گئیں جو نگاہیں دسترخوان کی طرف تھیں وہ آسمان کی طرف اٹھ گئیں میں بھی خاموشی سے بیٹھ گئی میرے سامنے میری طالبات تھیں اور میرے دل میں میرے بچپن کی یادیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت کی دو ندیاں ایک ہی جگہ آ کر مل گئی ہوں ایک ندی ماضی کی جس کے کنارے میری ماں کی محبت تھی اور دوسری حال کی جس کے کنارے میری طالبات کی شفقت اور خدمت تھی میں نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دل کی گہرائی سے دعا مانگی یا رب جس طرح تو نے مجھے اپنی اساتذہ کی محبت عطا فرمائی اسی طرح میری ان بچیوں کو بھی علم عمل اخلاص اور خدمت کی دولت عطا فرما جس طرح آج ان کے ہاتھ دوسروں کے لیے دسترخوان سجا رہے ہیں کل یہی ہاتھ امت مسلمہ کی خدمت کا ذریعہ بنیں ان کی معصومیت کو ایمان کی پختگی میں اور ان کے اخلاص کو تاحیات باقی رکھ دعا ختم ہوئی تو آنکھوں کے کنارے بھیگ چکے تھےشاید کسی نے دیکھا نہیں اور اگر کسی نے دیکھا بھی ہوگا تو اس نے یہی سمجھا ہوگا کہ یہ آنسو رمضان کی برکت ہیں لیکن میں جانتی تھی ان آنسوؤں میں رمضان بھی تھا بچپن بھی تھا امی بھی تھیں میری استانیاں بھی تھیں اور میری یہ ننھی ننھی طالبات بھی جنہوں نے مجھے ایک بار پھر یہ احساس دلایا تھا کہ محبت سے کی گئی خدمت کبھی ضائع نہیں جاتی مغرب کی اذان ختم ہوئی تو سب نے کھجور سے روزہ افطار کیا چند لمحوں کے لیے پورا ماحول سکون میں ڈوب گیا وہی دسترخوان جو کچھ دیر پہلے ننھے ننھے ہاتھوں کی محنت سے سج رہا تھا اب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے آباد تھامیں خاموش بیٹھی اپنی طالبات کو دیکھ رہی تھی کوئی پانی کا گلاس اپنی سہیلی کی طرف بڑھا رہی تھی کوئی پہلے دوسروں کو کھجور پیش کر رہی تھی اور کوئی اس بات کا خیال رکھ رہی تھی کہ کہیں کسی کے حصے میں کوئی چیز کم نہ رہ جائے
میں نے بے اختیار دل میں کہایا اللہ! یہی تو وہ تعلیم ہے جو کتابوں کے صفحات سے آگے بڑھ کر کردار میں اترتی ہےاچانک مجھے احساس ہوا کہ وقت صرف انسان کی عمر نہیں بڑھاتابلکہ اس کی ذمہ داریاں بھی بدل دیتا ہےکل تک میں بھی انہی بچیوں کی طرح ایک طالبہ تھی میرے ہاتھوں میں بھی کتابیں تھیں، میرے دل میں بھی بچپن کی بے فکری تھی اور میری زندگی بھی اپنی استانیاں کی شفقت کے سائے میں گزرتی تھی پھر نہ جانے کب وقت نے خاموشی سے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے طالبہ کی صف سے نکال کر معلمہ کی جگہ لا کھڑا کیا اور آج میرے سامنے بیٹھی نور فاطمہ اور ام کلثوم کو دیکھ کر دل عجیب کیفیت میں ڈوب گیاکبھی یہ دونوں اتنی چھوٹی تھیں کہ دوپٹہ سنبھالتے سنبھالتے خود ہی اس میں الجھ جاتیں کبھی سبق سناتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتی کبھی معمولی سی بات پر رو دیتیں اور کبھی ننھی ننھی ہتھیلیوں سے میرا ہاتھ پکڑ کر سوالوں کی ایک دنیا لے کر میرے پاس آ جاتیں آج وہی نور فاطمہ وہی ام کلثوم افطار کی پوری تیاری سنبھال رہی تھیں وہی ننھے ہاتھ جنہیں کبھی سہارا دینا پڑتا تھاآج دوسروں کا سہارا بن رہے تھےوہی معصوم آنکھیں جن میں کبھی بچپن کی شرارت تھی آج ذمہ داری کی روشنی سے جگمگا رہی تھیں میں نے دل ہی دل میں مسکرا کر سوچاوقت واقعی سب سے بڑا استاد ہےاس کی تربیت خاموش ہوتی ہے، مگر اس کے اسباق کبھی فراموش نہیں ہوتےمیں نے ایک نظر اپنی تمام طالبات پر ڈالی شمع ترنم رابعہ کی جماعتِ خامسہ کی بچیاں سب اپنے اپنے کام میں اس انہماک سے مصروف تھیں جیسے خدمت ہی ان کی خوشی ہواس لمحے مجھے اپنی والدہ بہت شدت سے یاد آئیں شاید برسوں پہلے وہ بھی ہمیں اسی محبت سے دیکھا کرتی ہوں گی شاید ہم بھی ان کی نگاہوں میں اسی طرح بڑے ہوئے ہوں گےشاید اس دن انہیں بھی احساس ہوا ہوگا کہ ان کی چھوٹی چھوٹی بچیاں اب زندگی کی ذمہ داریاں سمجھنے لگی ہیں وقت کا یہی تو حسن ہےیہ کبھی کسی کو ایک جگہ نہیں رہنے دیتایہ بچپن کو جوانی میں طالبہ کو معلمہ میں اور سیکھنے والے کو سکھانے والا بنا دیتا ہےمیں نے آسمان کی طرف دیکھارمضان کی شام اپنی آخری ساعتوں میں تھی افطار ہو چکا تھافضا میں اذان کی بازگشت ابھی تک محسوس ہو رہی تھی میں نے خاموشی سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیےاے میرے رب!جس طرح تو نے میری زندگی کو ان خوبصورت یادوں سے آراستہ کیااسی طرح میری ان تمام طالبات کی زندگیاں بھی اپنی رحمتوں سے بھر دےنور فاطمہ ام کلثوم شمع ترنم اور میری ہر طالبہ کو علم نافع عطا فرماان کے کردار کو ایمان کی خوشبو سے معطر کر دےان کی زندگیوں میں خیر و برکت نازل فرمااور انہیں ہمیشہ دین کی خدمت کرنے والوں میں شامل فرما۔یا اللّٰہ جس طرح آج ان کے ہاتھ افطار کا دسترخوان سجا رہے ہیں کل انہی ہاتھوں سے دین کی شمعیں روشن ہوں انہی زبانوں سے قرآن کی صدائیں بلند ہوں اور انہی قدموں سے خیر کے راستے آباد ہوں آمین میں نے دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھ چہرے پر پھیرے تو یوں محسوس ہوا جیسے صرف ایک رمضان کی شام ہی ختم نہیں ہوئی تھی، بلکہ میری زندگی کا ایک پورا باب دوبارہ میری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو کر پھر خاموشی سے دل میں اتر گیا تھاآج بھی جب رمضان آتا ہےافطار کی خوشبو فضا میں بکھرتی ہے پکوڑیوں کی مہک ہوا میں گھلتی ہےکسی ننھی طالبہ کے ہاتھ میں خدمت کا جذبہ دیکھتی ہوں تو دل بے اختیار اسی شام کی طرف لوٹ جاتا ہےوہ شام جس میں افطار صرف دسترخوان پر نہیں سجا تھابلکہ میری یادوں، میرے بچپن میری ماں کی محبت میری استانی کی تربیت اور میری اور میری طالبات کے خلوص نے مل کر میرے دل میں ایک ایسا دسترخوان بچھا دیا تھا جس کی برکت آج بھی میری روح کو سیراب کر دیتی ہے