ــــــــــامتحان کی کئی دنوں کی محنت و مشقت کے بعد اب حیا کچھ دیر سکون سے سانس لینا چاہتی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے اس کی تمام توجہ پڑھائی اور امتحانات کی تیاری پر مرکوز تھی، جس کے باعث گھر کے کئی ضروری کام بھی اس نے مؤخر کر دیے تھے۔ اس نے سوچ رکھا تھا کہ امتحانات ختم ہوتے ہی ایک ایک کرکے سب کام نمٹا لے گی۔
اب امتحانات ختم ہو چکے تھے، مگر سکون کے متوقع لمحات کے بجائے کپڑوں کا ایک بڑا سا ڈھیر اس کا منتظر تھا۔ آخرکار حیا نے آج کپڑے دھونے کا ارادہ کر ہی لیا۔ پھر کیا تھا! وہ کپڑے دھونے میں ایسی مصروف ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری شام گزر گئی۔ رات کے تقریباً آٹھ بج چکے تھے۔ باقی بچے ہوئے کپڑے اس نے مشین میں ڈال دیے اور خود قریب رکھی میز کے پاس بیٹھ کر مطالعے میں مشغول ہوگئی۔
اتنے میں اس کی چھوٹی بہن اس کے لیے چائے لے آئی۔ کئی گھنٹوں کی تھکن کے بعد گرم چائے کا کپ حیا کو بے حد بھلا محسوس ہوا۔ اس نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا اور کتاب کھول کر مطالعے میں مشغول ہوگئی۔ ابھی وہ مطالعے میں پوری طرح محو بھی نہ ہوئی تھی کہ اچانک اسے اپنے پاؤں میں ایک تیز سی چبھن محسوس ہوئی۔ اس نے گھبرا کر فوراً پاؤں جھٹکا اور یکایک اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی۔ اچانک ہونے والی اس حرکت سے اس کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ الٹ گیا اور گرم چائے اس کے اوپر جا گری، اور حیا کی چیخ سن کر گھر میں کھلبلی مچ گئی۔ اس کا بھائی اور بھابی فوراً وہاں پہنچے۔ حیا کے کپڑے گرم چائے سے بھیگے ہوئے تھے، چہرے پر تکلیف اور گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے اور پاؤں سے خون بھی نکل رہا تھا۔ دونوں یہ دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ آخر اچانک کیا پیش آگیا ہے۔ حیا اس وقت اتنی گھبرا چکی تھی کہ فوراً کچھ بتانے کی حالت میں نہ تھی۔ اسے بٹھایا گیا، پانی پلایا گیا اور کچھ دیر آرام کرنے دیا گیا۔
جب اس کی حالت کچھ سنبھلی تو اس نے بتایا کہ وہ چائے پیتے ہوئے مطالعہ کر رہی تھی کہ اچانک ایک بڑے چوہے نے اس کے پاؤں میں کاٹ لیا۔ وہ گھبرا کر فوراً پاؤں جھٹک کر کھڑی ہوگئی اور اسی گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹ گیا، جس سے پوری گرم چائے اس کے اوپر گر گئی۔ اب گھر والوں کو ساری بات سمجھ میں آگئی۔ واقعہ اگرچہ چند لمحوں کا تھا، مگر حیا کی گھبراہٹ اور تکلیف نے سب کو پریشان کر دیا تھا۔
اگلے دن حیا حسبِ معمول مطالعے میں بیٹھی تھی کہ گزشتہ رات کا واقعہ اچانک اس کے ذہن میں تازہ ہوگیا۔ اسے یاد آیا کہ ایک معمولی سے چوہے کے کاٹنے سے وہ کس قدر گھبرا گئی تھی۔ چند لمحوں کی اس تکلیف نے ہی اسے بے چین کر دیا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر اس کے دل میں ایک خیال ابھرا: جب دنیا کی ایک معمولی سی تکلیف بھی انسان کے لیے اتنی پریشان کن ہوسکتی ہے تو قبر اور آخرت کی سختیوں کا کیا حال ہوگا؟ اگر انسان اپنے گناہوں کے سبب وہاں عذاب میں مبتلا ہوگیا تو وہ اسے کیسے برداشت کرے گا؟
یہ خیال اس کے دل میں اترتا چلا گیا۔ سامنے کتاب کھلی تھی، مگر اب اس کی نگاہیں الفاظ سے زیادہ اپنے اعمال کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اسے شدت سے احساس ہوا کہ انسان دنیا کے چند روزہ امتحان کے لیے کتنی محنت اور تیاری کرتا ہے، مگر اُس امتحان کو کتنی آسانی سے بھول جاتا ہے جس کے بعد نہ کوئی دوسرا موقع ہوگا اور نہ واپس لوٹنے کی گنجائش۔
حیا کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: یا اللہ اگر دنیا کی ایک معمولی سی تکلیف مجھے اتنا بے چین کر سکتی ہے تو اپنے گناہوں کے انجام سے میں کیسے بے خوف رہ سکتی ہوں؟ اے میرے رب مجھے غفلت کی زندگی سے نکال دے، میرے گناہوں کو معاف فرما، مجھے سچی توبہ کی توفیق عطا فرما اور اپنی رحمت سے قبر و آخرت کی سختیوں سے محفوظ فرما، یہ کہتے ہوئے حیا نے کتاب بند کردی، ہاتھ اٹھائے اور دیر تک اپنے رب کے حضور دعا کرتی رہی۔
گزشتہ رات کا وہ واقعہ اب اس کے لیے محض ایک حادثہ نہیں رہا تھا، بلکہ ایک ایسی یاد دہانی بن چکا تھا جس نے اسے دنیا کی عارضی تکلیف سے آخرت کی دائمی حقیقت کی طرف متوجہ کر دیا تھا۔
اس دن حیا نے اپنے دل میں عہد کیا کہ وہ صرف دنیا کے امتحانات کی تیاری تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اپنی آخرت کی تیاری کو بھی اپنی زندگی کا مقصد بنائے گی، کیونکہ دنیا کا امتحان ختم ہو جاتا ہے، مگر آخرت کا فیصلہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے، اور شاید یہی اس واقعے کا سب سے بڑا سبق تھا کہ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف بھی انسان کو اُس غفلت سے بیدار کر دیتی ہے جسے بڑی بڑی نصیحتیں بھی دور نہیں کر پاتیں۔