سوال 1: اصحاب فرائض کون لوگ ہیں؟
جواب: اصحاب فرائض وہ ہیں جن کے حصے قرآن مجید، حدیث شریف یا اجماع امت کی رو سے مقرر ہیں۔
( بہار شریعت:ح؛20 ص،1118)
سوال 2: کیا اس زمانے میں بیت المال کا نظام ہے؟ اگر نہیں تو اس مال کا کیا ہوتا ہے؟
جواب: اس زمانے میں بیت المال کا نظام نہیں ہے، اس لئے اس مال کو صدقہ کر دیا جائے۔
( بہار شریعت: ص، ایضاً)
سوال 3: قرض سے کیا مراد ہے ؟
جواب: قرض سے مراد وہ قرض ہے جو بندوں کا ہو، اس کی ادائیگی وصیت پر مقد م ہے۔
( بہار شریعت: ص،1117)
سوال 3: حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے قرض کے متعلق کیا فرمایا ہے ؟
جواب: حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلَّم کو دیکھا آپ نے قرض وصیت سے پہلے ادا کرایا۔
( بہار شریعت: ص، ایضاً)
سوال 4: جب کسی عورت کے مرنے کے وقت اس کا شوہر اور ماں باپ ہوں تو شوہر اور ماں کو کتنا حصہ ملے گا حدیث کی روشنی میں بیان کرے؟
جواب: حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: ’’جب کسی عورت کے مرنے کے وقت اس کا شوہر اور ماں باپ ہوں تو شوہر کو نصف ملے گا اور ماں کو باقی کا تہائی۔(بہار شریعت: ص؛ 1116) سوال 5: کیا مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث ہوگا حدیث کی روشنی میں بتائیں ؟
جواب: حضرت اسامہ ابن زید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’مسلمان کافر کا وارث نہ ہو گا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوگا۔
( بہار شریعت: ص؛1114)
سوال 6: اگر کسی شخص کا انتقال ہو، جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو، تو اس کا وارث کون ہوگا، حدیث کی روشنی میں بتائیں؟
جواب: حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ’’ماموں اس میت کا وارث ہے جس کا اور کوئی وارث نہ ہو۔
( بہار شریعت: ص؛ 1117)
سوال 7: اگر میت نے کچھ نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی یا روزوں کے فدیہ کی یا کفارہ کی یا حج بدل کی تو تمام چیزیں ادائیگی کس مال سے کی جاۓ گی؟
جواب: اگر میت نے کچھ نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی یا روزوں کے فدیہ کی یا کفارہ کی یا حج بدل کی تو تمام چیزیں ادائیگی قرض کے بعد ایک تہائی مال سے ادا کی جائیں گی اور اگر بالغ ورثاء اجازت دیں تو تہائی سے زیادہ مال سے بھی ادا کی جاسکتی ہیں ۔
( بہار شریعت: ص، ایضاً)
سوال 8: میت کے چھوڑے ہوۓ مال سے اس تجہیز وتکفین کس انداز میں کی جاۓ؟
جواب: میت کے چھوڑے ہوئے مال سے اس کی تجہیز و تکفین مناسب انداز میں کی جائے ۔( بہار شریعت: ص، 1117 )
سوال 9: وصیت کے بعد جو مال بچا ہو اس کی تقسیم کس ترتیب کے ساتھ عمل میں آئے گی؟
جواب: وصیت کے بعد جو مال بچا ہو اس کی تقسیم درج ذیل ترتیب کے ساتھ عمل میں آئے گی۔جس میں چند بیان یہ ہے: عصبات نسبیہ، عصبات سببیہ، عصبۂ سببی کا نسبی عصبہ پھر سببی عصبہ۔ذوی الفروض النسبیہ کو ان کے حقوق کی مقدار میں دوبارہ دیا جائے گا۔ ذوی الارحام۔ مولیٰ الموالاۃ۔پھر جو بچا ہو وہ اس شخص کو دیا جائے جس کے لئے میّت نے کُل مال کی وصیت کی تھی(بہار شریعت: 1117 )سوال 10: کیا قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے ؟
جواب: جی ہاں، قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے۔
(بہار شریعت:ص؛1117)