سوال نمبر1:ختنہ کا سنت طریقہ کیا ہے؟
جواب: ختنہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں برس بچے کا ختنہ کرا دیا جائے ختنہ کی عمر سات سال سے 12 سال تک ہے یعنی 12 برس سے زیادہ دیر لگانا منع ہے ۔
(اسلامی زندگی: ص،26)
سوال نمبر:2:ختنہ کے موقع پر بہن بہنوئیوں کو جوڑے دلوانا گانے والی عورتوں اور میراثیوں پر خرچ کرنا یہ سب کیسا ہے اور اس کا کیا کرنا چاہیے ؟
جواب: یہ سب مسلمانوں کی کمزور پہلو ہیں بدعات و خرافات ہیں ان سب چیزوں کو بالکل بند کر دینا چاہیے ۔
(اسلامی زندگی: ص، 26)
سوال نمبر:3:بچوں کو دو سال سے زیادہ دودھ پلانا کیسا ہے؟
جواب : لڑکی ہو یا لڑکا کسی کو بھی دو سال سے زیادہ دودھ پلانا جائز نہیں ہے قران کریم میں ہے و الوالدات يررضعن اولادهن حولين كاملين ، اگر ماں باپ چاہیں تو دو سال سے پہلے دودھ چھڑا دیں مگر دو سال کے بعد دودھ پلانا منع ہے۔
(اسلامی زندگی: ص،28)
سوال نمبر:4:لڑکی کے لیے کیسا لڑکا اور لڑکے کے لیے کیسی لڑکی تلاش کرنی چاہیے؟
جواب : لڑکی کے لیے لڑکا اور لڑکے کے لیے لڑکی ایسی تلاش کی جائے جو شریف اور دیندار ہوں تاکہ اپس میں محبت رہے جہاں لڑکے کی مرضی نہ ہو وہاں ہرگز نکاح نہ ہو اسی طرح جہاں لڑکی یا لڑکی کی ماں کی منشا نہ ہو وہاں نکاح کرنا زہر قاتل ہے ہم نے دیکھا ہے کہ اسے شادیاں کامیاب نہیں ہوتی اسی لیے شران ضروری ہے کہ لڑکی سے اجازت لیتے وقت لڑکے کا نام ماں اس کے والد کے اور مہرو کے بتایا جائے کہ اے بیٹی ہم تیرا نکاح فلاں لڑکے فلاں کے بیٹے سے کر دیں وہ کہے ہاں تب نکاح ہوتا ہے یہ اجازت لڑکی کی رائے معلوم کرنے کے لیے ہی تو ہے اگر موقع ہو تو لڑکے کو لڑکی پیغام سے پہلے کسی بہانے سے خفیہ طور پر دکھا دی جائے کہ لڑکی کوئی خبر نہ ہو بلکہ نکاح سے بہتر اپنے سارے قرابت داروں کا مشورہ لینا بھی بہتر ہے قران کریم فرماتا ہے وامرهم شورى بينهم ایسے نکاح کے سارے قرابت دار ذمہ دار ہوتے ہیں اور اگر دلہن اور دلہا میں نہ اتفاقی ہو جائے تو یہ لوگ مل کر اتفاق کی کوشش کرتے ہیں۔
(اسلامی زندگی: ص،38)
سوال نمبر5:اپنی اولاد کے نکاح کے لیے کس خاتون کے نکاح کو نمونہ بنانا چاہیے ؟
جواب : خاتون جنت شہزادی اسلام فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے نکاح پاک کو نمونہ بنانا چاہیے ۔
(اسلامی زندگی: ص،51)
سوال نمبر6:مسواک کی فضیلت بیان کریں!
جواب: سیدنا حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا توسكوا فان السواك مطهرو للفم مرضاة للرب ،کہ مسواک کرو کیونکہ مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ رب العزت کی خوشنودی کا سبب ہے ۔
(اسلامی زندگی: ص،53)
سوال نمبر 7:سسرال کی لڑائیوں کی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں ان میں سے چند لکھیں !
جواب : سسرال کی لڑائیاں چند وجہ سے ہوتی ہیں کبھی تو دلہن تیز زبان اور گستاخ ہوتی ہے ساس ننت کو سخت جواب دیتی ہے اس لیے لڑائی ہوتی ہے کبھی شوہر کی چیزوں کو حقیر جانتی ہے اور وہاں اپنے میکے کی بڑائی کرتی رہتی ہے کہ میرے باپ کے گھر یہ تھا وہ تھا کبھی ساس ننا دلہن کے ماں باپ کو اس کی موجودگی میں برا بھلا کہتی ہیں جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتی کبھی سسرال کے کام سے جی چناتی ہے کیونکہ میکے میں کام کرنے کی عادت نہ تھی کبھی میکے بھیجنے پر جھگڑا ہوتا ہے کہ دلہن کہتی ہے کہ میں میکے جاؤں گی سسرال والے نہیں بھیجتے پھر دلہن اپنی تکلیف ہوئے ہیں اپنے مائیکے والوں سے جا کر کہتی ہیں تو اس کی طرف سے لڑائی کرتے ہیں یا ایسی اگ لگتی ہے کہ بجھائے نہیں بجتی کبھی ساس نہ نہ دیں بلاوجہ دلہن پر بدگمانی کرتی ہیں کہ دلہن ہماری چیزوں کی چوری کر کے میکے پہنچاتی ہیں یہ وہ شکایات ہیں جن کی وجہ سے ہمارے یہاں خانہ جنگیاں رہتی ہیں ان شکایت کی جڑ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق سے بے خبر ہیں دلہن کو نہیں معلوم کہ مجھ پر شوہر اور ساس کے کیا کیا حق ہیں اور ساس اور شوہر کو نہیں خیور کہ ہم پر دلہن کے کیا کیا حق ہیں ؟
(اسلامی زندگی: ص،66)
سوال نمبر8:پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اگر خدا کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو کس کو ہوتی ؟
جواب : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں ۔
(اسلامی زندگی:ص،68)
سوال نمبر9:شوہر کو جو نصیحتیں کی گئی ہیں ان میں سے جو نصیحت اپ کو اچھی لگے وہ قلم بند کریں!
جواب: اے شوہر و! تم یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے چار باپ ہوتے ہیں ایک تو نسبی باپ دوسرے اپنا سسر تیسرے اپنا استاد چوتھے اپنا پیر اگر تم نے اپنے سسر کو برا کہا تو سمجھ لو کہ اپنے باپ کو برا کہا حضور علیہ السلام نے فرمایا بہت کامیاب شخص وہ ہے جس کی بیوی بچے اسے راضی ہوں خیال رکھو کہ تمہاری بیوی نے صرف تمہاری وجہ سے اپنے سارے میکے کو چھوڑا بلکہ بعض صورتوں میں دیس چھوڑ کر تمہارے ساتھ پردیسی بنی اگر تم بھی اس کو انکھیں دکھاؤ تو وہ کس کی ہو کر رہے تمہارے ذمے ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے سب کے حق ہیں کسی کے حق کے ادا کرنے میں غفلت نہ کرو اور کوشش کرو کہ دنیا سے بندوں کے حق کا بوجھ اپنے پر نہ لے جاؤ خدا کے تو سب گناہ گار ہیں مگر مخلوق کے گنہگار نہ بنے ۔
(اسلامی زندگی: ص،69)