بزم سخن

نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

Shaheen  heer
30 اگست 2026
65
0
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
رخت سفر کو باندھ کے طیبہ کو جائیں گے 
ہم کو یقین ہے ہمیں آقا بلائیں گے 

عاشق کو اپنے روز قیامت مرے حضور 
کوثر کا جام ہاتھوں سے اپنے پلائیں گے 

شمس و قمر بھی شرم سے منہ کو چھپائیں گے 
لہرا کے زلف جب مرے سرکار آئیں گے

نجدی وہابی رافضی ہو یا ہو خارجی 
اعداء نبی کے سب ہی جھنم میں جائیں گے 

دل کو مرے سکون نہ جانے ملےگا کب 
فرقت کا داغ سینے سے وہ کب مٹائیں گے 

جانا ہوا نصیب سے گر شہرِ مصطفیٰ 
واپس در رسول سے ہر گز نہ آئیں گے 

رب سے لقا کے وقت نہ بھولے تھے جو ہمیں 
محشر کے روز کیسے ہمیں وہ بھلائیں گے 

بچپن سے ہی سکھائیں گے ہم عشقِ مصطفیٰ 
بچوں کو اپنے آپ کا عاشق بنائیں گے 

نیکوں کے ہی نہیں ہے فقط وہ شفیع ۔۔ سن
بدکاروں کو بھی وہ سر محشر بچائیں گے 

زہراب موت ہے بڑی مشکل کی ہے گھڑی 
دیدار گر تمھارا ہو آرام پائیں گے 

اچھوں کو تو نبھاتے ہیں سب ہی جہان میں 
ہم جیسے عاصیوں کو بھی آقا نبھائیں گے 

ویرانیاں جو دل میں ہمارے کریں گی گھر
دل میں تمھاری یاد کے دیپک جلائیں گے

اِس آرزو میں کٹتے ہیں دن رات یہ مرے 
کب جانے ہیر تُجھ کو شہ دیں بلائیں گے

از قلم ۔۔شاہین ہیر صدیقی