بزم سخن

کلامِ اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ علیہ)

سعدیہ خاتون
14 اگست 2026
41
0
بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا
لمعہ باطن میں گمنے جلوۂ ظاہر گیا

تیری مرضی پاگیا سورج پھرا الٹے قدم
تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجہ چر گیا

بڑھ گئی تیری ضیا اندھیر عالم سے چھٹا
کھل گیا گیسو تیرا رحمت کا بادل گھر گیا

بندھ گئ تیرا ہوا ساوہ کا خاک اڑنے لگی
بڑھ چلی تیری ضیا آتش پہ پانی پھر گیا

تیری رحمت سے صفی اللہ کا بیڑا پار تھا
تیرے صدقے سے نجی اللہ کا بجرا تر گیا

تیری آمد تھی کہ بیت اللہ مجرے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گیا

مؤمن ان کا کیا ہوا اللہ اس کا ہوگیا
کافر ان سے کیا پھرا اللہ ہی سے پھر گیا

وہ کہ اس در کا ہوا خلق خدا اس کی ہوئی
وہ کہ اس در سے پھرا اللہ اس سے پھر گیا

مجھ کو دیوانہ بتاتے ہو میں وہ ہوشیار ہوں
پاؤں جب جب طوف حرم میں تھک گئے سر پھر گیا

رحمت اللعالمین آفت میں ہوں کیسی کروں
میرے مولا میں تو اس دل سے بلا میں گھر گیا
میں تیرے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منہ پھر گیا

کیوں جناب بوہریرہ تھا وہ کیسا جام شیر 
جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گیا
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سنی مرے
یوں نہ فرمائیں تیرے شاہد کہ وہ فاجر گیا

عرش پر دھومیں مچیں وہ مؤمن صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طیب و طاہر گیا

اللہ اللہ یہ علو خاص عبدیت رضا 
بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا
ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضا اول گیا آخر گیا

طالبہ دعا: سعدیہ خاتون