بزم سخن

کلامِ اعلیٰ حضرت ( رحمۃ اللہ علیہ)

سعدیہ خاتون
17 اگست 2026
64
0
وہ کمال حسن حضور ﷺ ہیں کہ گمان نقص جہاں نہیں 
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں 

دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانی دل و جاں نہیں 
کہو کیا ہے جو یہاں نہیں مگر اک نہیں کہ وہ یاں نہیں 

میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کسی کو زباں نہیں 
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں 

بخدا یہی ہے خدا کا در نہیں اور کوئی مفر مقر 
جو وہاں سے ہو یہیں آ کے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں 

کر کے مصطفیٰ ﷺ کی اہانتیں کھلے بندوں اس پہ یہ جراتیں 
کہ میں کیا نہیں ہوں محمدی ارے ہاں نہیں ارے ہاں نہیں 

تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحاء عرب کے بڑے بڑے 
کوئی جانے منہ میں زباں نہیں نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں 

وہ شرف کہ قطع ہیں نسبتیں وہ کرم کہ سب سے قریب ہیں 
کوئی کہہ دو یاس و امید سے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیں 

یہ نہیں کہ خلد نہ ہو نکو وہ نکوئی کی بھی ہے آبرو 
مگر اے مدینہ کی آرزو جسے چاہے تو وہ سماں نہیں 

ہے انہی کے نور سے سب عیاں ہے انہی کے جلوے میں سب نہاں 
بنے صبح تابش مہر سے رہے پیش مہر یہ جاں نہیں 

وہی نور حق وہی ظل رب ہے انہی سے سب ہے انہی کا سب
نہیں ان کی ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں 

وہی لا مکاں کے مکیں ہوئے سر عرش تخت نشیں ہوئے 
وہ نبی ﷺ ہیں جن کے ہیں یہ مکاں وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں 

سرِ عرش پر ہے تیری گزر دلِ فرش پر ہے تیری نظر 
ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں 

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں 

تیرا قد تو نادر دہر ہے کوئی مثل ہو تو مثل دے 
نہیں گل کے پودوں میں ڈالیاں کہ چمن میں سرو چماں نہیں 

نہیں جس کے رنگ کا دوسرا نہ تو ہو کوئی نہ کبھی ہوا
کہو اس کو گل کہے کیا کوئی کہ گلوں کے ڈھیر کہاں نہیں 

کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں مری بلا 
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں 


طالبۂ دعا: سعدیہ خاتون