سنبھل جا اے دلِ مضطر مدینہ آنے والا ہے
لٹا اے چشم تر گوہر مدینہ آنے والا ہے
قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے
بچھوں رہ میں نظر بن کر مدینہ آنے والا ہے
جو دیکھے ان کا نقشِ پا خدا سے وہ نظر مانگوں
چراغِ دل چلو لےکر مدینہ آنے والا ہے
نچھاور ہیں مدینہ کی یہ میرا دل مری آنکھیں
نچھاور ہوں مدینہ پر مدینہ آنے والا ہے
مجھے کھینچے لیے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں
کھنچا جاتا ہوں میں یکسر مدینہ آنے والا ہے
وہ چمکا گنبدِ خضریٰ وہ شہرِ پرُ ضیا آیا
ڈھلے اب نور میں پیکر مدینہ آنے والا ہے
طلبگارِ مدینہ تک مدینہ خود ہی آ جائے
تو دنیا سے کنارہ کر مدینہ آنے والا ہے
مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی
تو خالی کر یہ دل کا گھر مدینہ آنے والا ہے
فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاک گزر بن کر
بچھے ہیں راہ میں اختر مدینہ آنے والا ہے
محمد کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو
وہ آتا ہے شہِ خاور مدینہ آنے والا ہے (ﷺ)
غبارِ راہِ انور کس قدر پُر نور ہے اختر
تنی ہے نور کی چادر مدینہ آنے والا ہے
طالبہ دعا: سعدیہ خاتون