خلد بھی ہے مشتاق زیارت جلوہ ہی کچھ ایسا ہے
دل کو سکوں دے آنکھ کو ٹھنڈک روضہ ہی کچھ ایسا ہے
فرشِ زمیں پر عرشِ بریں ہو لگتا ہی کچھ ایسا ہے
ان (ﷺ) کے در پہ ایسا جھکا دل اٹھنے کا اب ہوش نہیں
اہل شریعت ہیں سکتے میں سجدہ ہی کچھ ایسا ہے
لوح و قلم یا عرشِ بریں ہو سب ہیں ان کے سائے میں
میرے بے سایہ آقا (ﷺ) کا سایہ ہی کچھ ایسا ہے
سبطِ نبی ہیں پشتِ نبی پر اور سجدے کی حالت ہے (ﷺ)
آقا (ﷺ) نے تسبیح بڑھا دی بیٹا ہی کچھ ایسا ہے
عرشِ معلی سر پر اٹھائے طائرِ سدرہ آنکھ لگائے
پتھر بھی قسمت چمکائے تلوا ہی کچھ ایسا ہے
رب کے سوا دیکھا نہ کسی نے فرشی ہو یا عرشی ہو
ان (ﷺ) کی حقیقت کے چہرے پر پردہ ہی کچھ ایسا ہے
تاج کو اپنے کاسہ بنا کر حاضر ہیں شاہانِ جہاں
ان (ﷺ) کی عطا ہی کچھ ایسی ہے صدقہ ہی کچھ ایسا ہے
خم ہیں یہاں جمشید و سکندر اس میں کیا حیرانی ہے
ان (ﷺ) کے غلاموں کا اے اختر رتبہ ہی کچھ ایسا ہے
طالبہ دعا: سعدیہ خاتون