سائے میں برچھیوں کے پیغام حق سنائے
سر دے کے کربلا میں توڑا غرور باطل
دینِ خدا کے حامی وہ کام کر دکھائے
ظلمت کی آندھیوں میں ابن علی نے خون سے
اسلام کی چراغوں کی روشنی بڑھائے
پیاسے تھے تین دن کے وہ دین حق کے نمازی
پھر بھی لبوں پہ رکھے شکوے گلے نہ آئے
جن کے گلوئے اطہر کو چومتے تھے آقا
ان پر ستم گروں نے تیغ وتیر چلائے
خونخوار ظالموں نے گھرا تھا ہر طرف سے
جذبات ابن حیدر پھر بھی نہ سے کھائے
نعمت وہ خوں چکاں ہیں کربل کی داستانیں
طاقت نہیں زبان میں کیسے کوئی سنائے