بزم سخن

کلام، نعمت اللہ نعمت ابراہیم پوری

سلمیٰ شاہین امجدی
35
0
کیا مرتبہ ہے ارفع واعلی حضور کا 
چوما ہے جبرئیل نے تلوہ حضور کا

اللہ نے کچھ ایسا بنایا ہے بے مثال 
ثانی کی بات کیا نہیں سایہ حضور کا 

مہر و مہ نجوم ہوں یا حسن کہکشاں 
ہر شئے میں جلوہ بار ہے جلوہ حضور کا 

تخلیق کائنات کا سہرا ہے ان کے سر 
دونوں جہاں ہے بے بہا حضور کا

مقبول بارگاہِ خدا ہوگئی دعا 
آدم نے جب دیا ہے وسیلہ حضور کا

اڑتے ہوئے پرندے فضاؤں میں چوم کر 
سرور ہونے پڑھتے ہیں کلمہ حضور کا

عقل و خرد سے بالا ہے معراج کا سفر 
پہونچا ہے لا مکاں پہ سراپا حضور کا

اوج فلک پہ کیوں نہ ہمارا نصیب ہو 
اللہ نے بنایا جو شیدا حضور کا 

نازاں ہیں جس پہ بزم دوعالم کی رونقیں 
کتنا حسین ہے گنبدِ خضریٰ حضور کا 

فتح و ظفر کا مژدۂ جاں بخش مل گیا
دست دعا جو بدر میں اٹھا حضور کا 

بوبکر ہوں عمر ہوں کہ عثمان ہوں یا علی 
ہر ایک پہ کرم ہے نرالا حضور کا 

نعمت دعا ہے اتنی خدائے کریم سے 
لب پر ہو وقت نزع قصیدہ حضور کا