افسانہ

ہجرت

خادمان قلم
04 ستمبر 2026
16
0
از قلم: شہلا انجم راجپوت 
رات کے پچھلے پہر اسٹیشن پر عجیب سی خاموشی تھی۔ پلیٹ فارم پر بیٹھا بشیر بار بار اپنی مٹھی میں دبی ہوئی مٹی کو دیکھتا پھر آنکھیں بند کر لیتا۔ آج پینسٹھ برس بعد وہ اسی شہر کی طرف لوٹ رہا تھا جہاں سے کبھی اسے اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔

ٹرین سے اترتے ہی اس نے ایک نوجوان سے پرانے محلے کا راستہ پوچھا۔ نوجوان نے حیرت سے اسے دیکھا “بابا! آپ یہاں پہلی بار آئے ہیں؟”

بشیر مسکرایا “نہیں بیٹا میں یہاں سے پہلی بار گیا تھا۔”

محلہ بدل چکا تھا۔ گلیاں وہی تھیں مگر چہروں پر اجنبیت تھی۔ وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچا تو دروازے پر ایک نیا نام لکھا تھا۔ چند لمحے وہ خاموش کھڑا رہا۔ پھر جیب سے ایک پرانی چابی نکالی اور اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔

سامنے سے ایک ضعیف عورت آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آئی۔ اس نے بشیر کو دیکھا تو ٹھٹھک گئی۔

“تم… بشیر ہو؟”

بشیر کی آنکھیں بھر آئیں۔ “زینب!”

دونوں کے درمیان پینسٹھ برس کی خاموشی کھڑی تھی۔

زینب نے کانپتے ہاتھ سے گھر کا دروازہ کھولا۔ اندر ایک پرانی دیوار پر بچپن کی بنائی ہوئی لکیر اب بھی موجود تھی۔

“تم نے اسے مٹایا نہیں؟” بشیر نے پوچھا۔

زینب نے دھیمی آواز میں کہا “گھر بدل گئے لوگ بدل گئے مگر کچھ یادیں ہجرت نہیں کرتیں۔”

بشیر نے مٹھی میں بند مٹی کھولی۔ ہوا نے ذرے بکھیر دیے۔

وہ بولا “میں سمجھتا تھا ہجرت سرحد پار کرنے کا نام ہے۔ آج معلوم ہوا ہجرت تو اس وقت ہوتی ہے جب انسان اپنے ہی ماضی میں اجنبی ہو جائے۔”

زینب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ دونوں دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔

واپسی کے وقت بشیر نے گھر کی دہلیز کو چھوا اور کہا “میں تمہیں لینے نہیں آیا تھا زینب۔ بس یہ دیکھنے آیا تھا کہ میرا بچپن اب بھی زندہ ہے یا نہیں۔”

زینب نے مسکرا کر جواب دیا “وہ زندہ ہے بشیر… بس ہم دونوں سے کہیں زیادہ بوڑھا ہو چکا ہے۔”