ازقلم: مقیتہ وسیم
رات کے آخری پہر اسٹیشن تقریباً خالی تھا۔ زینب ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ لیے پلیٹ فارم پر بیٹھی بار بار اپنے گھر کی تصویر دیکھ رہی تھی۔ یہ وہی گھر تھا جہاں اس نے بچپن کی پہلی ہنسی، ماں کی دعائیں اور باپ کی انگلی تھام کر چلنا سیکھا تھا۔ آج وہ سب کچھ چھوڑ کر جا رہی تھی۔ ٹرین کی سیٹی گونجی تو زینب نے آنکھیں بند کر لیں۔ دل نے کہا، "واپس چلو!" مگر حالات نے جیسے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، "اب آگے بڑھو۔"
ٹرین چل پڑی۔ کھڑکی سے باہر شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے پیچھے رہنے لگیں۔ زینب کے آنسو خاموشی سے بہتے رہے۔ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ ہجرت صرف شہر، گھر یا وطن چھوڑنے کا نام نہیں، کبھی انسان کو اپنے اندر بسے ہوئے ماضی سے بھی ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ نئے شہر میں زندگی آسان نہ تھی۔ اجنبی چہرے، اجنبی راستے اور اجنبی آوازیں۔ کئی راتیں وہ اپنے پرانے گھر کی دہلیز خواب میں دیکھ کر جاگ جاتی۔ ایک دن اسے سڑک کنارے ایک بوڑھی عورت ملی جو اپنے چھوٹے سے پھولوں کے ٹھیلے پر بیٹھی تھی۔ زینب نے ایک پھول خریدا۔ بوڑھی عورت مسکرائی، "بیٹی، پھول جہاں لگ جائے، وہیں خوشبو بانٹتا ہے۔"
زینب دیر تک اس جملے کو سوچتی رہی۔ اگلے دن اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی میں وہ پھول رکھ دیا۔ مہینے گزرے۔ زینب نے نئے شہر میں گھر بنا لیا، مگر پرانے گھر کو دل سے کبھی نہیں نکالا۔ ایک صبح آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وہ ہجرت کر کے صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں آئی تھی۔ وہ خوف سے حوصلے کی طرف، شکست سے امید کی طرف اور ماضی سے مستقبل کی طرف ہجرت کر چکی تھی۔ اس نے کھڑکی کھولی۔ باہر نئی صبح تھی اور پہلی بار اسے لگا، کچھ ہجرتیں منزل نہیں چھینتیں، انسان کو خود اس کی نئی منزل بنا دیتی ہیں۔