افسانہ

ہجرت

خادمان قلم
04 ستمبر 2026
52
0
ازقلم: نمرہ بتول بنتِ غلام اکبر 
بوڑھے امجد علی نے جب آخری صندوق پر تالا لگایا تو چابی کی کڑکڑاہٹ ان کے دل پر چلی۔ پوتے پوتیاں گاڑی میں بیٹھ کر نئے شہر کے خواب دیکھ رہے تھے، مگر امجد علی کی نظریں صحن میں کھڑے اس بوڑھے نیم پر جمی تھیں جس کی چھاؤں میں انہوں نے اپنی پوری زندگی گزاری تھی۔ اس درخت کی شاخیں جیسے انہیں روکنے کے لیے پھیلی ہوئی تھیں۔
بیٹے نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھاما اور کہا، "ابا، چلیے، گاڑی تیار ہے۔" امجد علی نے ایک نظر اپنے گھر پر ڈالی۔ وہ دیواریں، جن پر ان کے بچوں کا قد ناپنے کے نشان آج بھی موجود تھے، خاموشی سے انہیں الوداع کہہ رہی تھیں۔ انہوں نے بوجھل قدموں سے دہلیز پار کی تو انہیں لگا جیسے ان کی عمر بھر کی کمائی۔۔۔ پرانے ہمسائے، شام کی بیٹھکیں، گلی میں کھیلتے بچوں کی آوازیں اور مرحومہ بیوی کی یادیں، سب اسی چوکھٹ پر سر جھکائے رو رہی ہیں۔
گاڑی چلی تو امجد علی نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہونے لگی۔ وہ مسجد کا مینار، وہ پرانی دکان، وہ چائے کا ہوٹل۔۔۔ سب پیچھے رہ گئے۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر لب خاموش تھے۔ شاید کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے آنسو بھی کم پڑ جاتے ہیں۔
لوگ سمجھتے ہیں ہجرت صرف سامان اور انسانوں کی ایک شہر سے دوسرے شہر منتقلی ہے، مگر سچ یہ ہے کہ اس سفر میں سب سے پہلے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ نئی بستی کے شاندار بنگلے میں پہنچ کر بھی امجد علی کا دل اسی پرانی گلی میں بھٹکتا رہا۔
وہاں وہ ایک آسودہ حال انسان تو بن گئے، مگر ان کا پرسکون اور مانوس وجود پرانے شہر کی دھول میں ہی کہیں ہجرت کر گیا تھا۔ اب وہ صرف سانس لیتے تھے، کیونکہ ان کے اندر جذبوں کی پوری بستی اسی پرانی مٹی کے ساتھ دفن ہو چکی تھی۔