افسانہ

ہجرت

خادمان قلم
04 ستمبر 2026
16
0
از قلم: شوال بنت عارف 
اُس دن گھر میں بہت شور تھا۔ قہقہے تھے،ہنسی تھی، سب رشتےداروں کی رونق تھی، 
لیکن کچن میں کام کرتی امی کے ہونٹوں پر ہنسی ہونےکے باوجود ان کی آنکھوں کی نمی صاف نظر آ رہی تھی۔اور اندر کمرے میں ان کی عشمہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی، سرخ قرمزی جوڑا پہنے ماتھے پر ٹیکا  سجائے، ہاتھوں پر مہندی لگائے اس گھر میں اپنا وقت پورا ہونے کا انتظار کررہی تھی۔ اس کا ذہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ آج سے وہ دیواریں چھوٹ جاتی، جنہیں پکڑ کر اس نے قدم قدم چلنا سیکھا، یہ کمرہ، یہ کھڑکیاں، یہ صحن سب پیچھے رہ جائے گا۔ لیکن اس کی اس ہجرت کی دل سوز چیز یہ تھی کہ آج کے بعد وہ امی کے بجائے ساس کی بیٹی بن جائے گی، ابو کے سہارے سے نکل کر کسی اور کے سہارے پر ہو جائے گی، اور بہن بھائیوں کے قہقہوں کے ساتھ ساتھ اُن کے لڑائی جھگڑوں سے بھی محروم ہو جائے گی، کیوں کہ آج کے بعد وہ "شادی شدگان" کی فہرست میں شامل ہو جائے گی 
اس کی رخصتی اور ہجرت کا لمحہ آن پہنچا؛ ابو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر سارے آنسو حلق میں اتارے، بھائی نے اس کے سر پر قرآن پکڑ رکھا تھا، اور امی نے اس کا ہاتھ اس شخص کے ہاتھ میں دیا جو اس کا محافظ تھا۔عشمہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ گھر پرایا لگ رہا تھا بہت سے آنسو اس کی آنکھوں سے اس کے قرمزی دوپٹہ پر گرے۔ 
آج اسے اندازہ ہوا کہ ہجرت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ لیکن بیٹی کی یہ ہجرت سب سے مقدس ہجرت ہے۔وہ ایک گھر اجاڑ کر دو گھر بناتی ہے، کیوں کہ ہجرت صرف چھوڑنے کا نام نہیں، ہجرت نئے کو اپنا بنانے کا نام بھی ہے۔